سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور میسجز فارورڈ کرنے والوں کی خیر نہیں! سائبر سیل ایکٹیو موڈ پر



سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور میسجز فارورڈ کرنے والوں کی خیر نہیں!، سائبر سیل ایکٹیو موڈ پر 




مالیگاؤں میں AI، مورفڈ فوٹوز، ویڈیوز اور قابلِ اعتراض ڈیجیٹل مواد پر پولس کی کڑی نظر، آزاد نگر پولس اسٹیشن میں مقدمہ بھی درج



مالیگاؤں: 22 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں شہر میں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ فوٹوز، ویڈیوز، مورفڈ ڈیجیٹل کنٹنٹ اور دیگر قابلِ اعتراض مواد نشر اور وائرل کرنے والوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ پولیس کے سوشل میڈیا اور سائبر سیل کی جانب سے ایسے مواد پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اسی معاملے میں آزاد نگر پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔اس طرح کی تفصیلات آج پولس کنٹرول روم میں منعقدہ پریس کانفرنس سے ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال نے دی ۔


انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں میں گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف آڈیو اور ویڈیوز سوشل میڈیا، خصوصاً واٹس ایپ چینلز اور دیگر گروپس کے ذریعے تیزی سے فارورڈ کیے جا رہے ہیں۔ ایسے مواد کے وائرل ہونے کی اطلاعات پولیس تک پہنچنے کے بعد آزاد نگر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرکے بعض ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران مزید افراد کے ملوث ہونے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔انہوں نے پولیس کی جانب سے واضح کیا ہے کہ نئے ویڈیوز یا دیگر ڈیجیٹل مواد کی شکایات موصول ہونے پر ان کی جانچ کی جا رہی ہے اور معاملے کی نوعیت کے مطابق متعلقہ قوانین اور دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کا عمل جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صرف مواد تیار کرنے والے ہی نہیں بلکہ اسے پھیلانے، فارورڈ کرنے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والوں کی ذمہ داری بھی جانچ کے دائرے میں آئے گی۔اس سلسلے میں ڈیجیٹل مواد سے متعلق تکنیکی معلومات اور شواہد ناسک سائبر سیل سے حاصل کرکے مالیگاؤں پولیس کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے سوشل میڈیا، سائبر اور تکنیکی سیل کی جانب سے مختلف ڈیجیٹل ذرائع کی جانچ کے ذریعے ایسے مواد کے اصل ماخذ اور اسے پھیلانے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


مالیگاؤں پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فون میں کسی بھی قسم کا قابلِ اعتراض، افواہ پر مبنی، توہین آمیز یا فحش مواد محفوظ نہ رکھیں اور نہ ہی اسے کسی واٹس ایپ گروپ، چینل یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فارورڈ یا پوسٹ کریں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی مواد کو بغیر تصدیق کے آگے بڑھانا بھی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔پولیس کے مطابق اگر تحقیقات یا سائبر سیل کی نگرانی کے دوران کسی شخص کے موبائل فون میں ایسا مواد پایا جاتا ہے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص نے مذکورہ مواد کو آگے فارورڈ یا نشر کیا ہے تو اس کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ مقدمات میں مواد تیار کرنے، شوٹ کرنے، ایڈٹ کرنے، پھیلانے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے تمام افراد کے کردار کی الگ الگ جانچ کی جائے گی۔


پولیس نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فرد کی توہین کرنے، فحش مواد تیار کرنے، جعلی یا مورفڈ تصاویر و ویڈیوز بنانے، افواہیں پھیلانے یا قابلِ اعتراض ڈیجیٹل مواد کو سوشل میڈیا پر گردش میں لانے سے گریز کیا جائے۔ ایسے مواد کی اطلاع ملنے پر پولیس کی جانب سے تکنیکی جانچ کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔مالیگاؤں پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، کسی بھی غیر مصدقہ یا قابلِ اعتراض ویڈیو، آڈیو، تصویر یا پیغام کو آگے فارورڈ کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں اور قانون کی خلاف ورزی کا باعث بننے والے کسی بھی ڈیجیٹل مواد کو پھیلانے سے مکمل طور پر گریز کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے