مالیگاؤں پولس کی بڑی کارروائی! مدھیہ پردیش سے 4 ملزمان گرفتار،ڈکیتی کا پردہ فاش
ڈھائی لاکھ کا مسروقہ مال برآمد،مزدور بن کر پہلے گھر کی ریکی اور کر ڈکیتی کی سازش، مزید چار ملزمان کی تلاش جاری
مالیگاؤں: 22 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)مالیگاؤں شہر و تعلقہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ناندگاؤں میں 15 ستمبر 2026 کی شب پیش آنے والی ڈکیتی کی واردات کا مالیگاؤں تعلقہ پولیس نے کامیابی سے پردہ فاش کرتے ہوئے مدھیہ پردیش سے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے سونے، چاندی کے زیورات اور نقد رقم سمیت تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا مسروقہ مال برآمد کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد ڈکیتی کی واردات سے جڑے دیگر چار فرار ملزمان کی تلاش تیز کردی گئی ہے۔اس طرح کی تفصیلات پولس کنٹرول روم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مالیگاؤں کے ایڈیشنل آیس پی سورج گنجال نے دی ۔
سورج گنجال نے میڈیا کو بتایا کہ ناندگاؤں میں فریادی اور اس کے اہل خانہ کو نشانہ بناتے ہوئے نامعلوم ملزمان نے رات کے وقت گھر میں داخل ہوکر اہل خانہ کے ساتھ مارپیٹ کی اور دھمکاتے ہوئے تقریباً 3 لاکھ 37 ہزار روپے مالیت کا نقدی و زیورات کا سامان زبردستی چھین لیا تھا۔اس معاملے میں مالیگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن میں گناہ رجسٹرڈ نمبر 844/2026 کے مطابق بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 309(6)، 311(6)، 333 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی۔ ایس۔ سوامی، ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج گنجال اور مالیگاؤں دیہی کے سب ڈویژنل پولیس افسر راکیش مانگاؤکر کی رہنمائی میں پولیس انسپکٹر دتا شندے، پولیس انسپکٹر راہل مورے اور مالیگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر رگھوناتھ شیگر کی قیادت میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تفتیشی ٹیموں نے جائے واردات اور اطراف کے سی سی ٹی وی فوٹیج، تکنیکی تجزیے اور دیگر شواہد کی باریک بینی سے جانچ شروع کی۔
تفتیش میں اہم سراغ ہاتھ لگنے کے بعد پولیس ٹیموں کو مدھیہ پردیش کے بدوانی اور کھرگون اضلاع میں روانہ کیا گیا۔ پولیس کی دو ٹیموں نے وہاں کارروائی کرتے ہوئے واردات میں مبینہ طور پر ملوث چار افراد کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت جیتارام عرف ایلارام منتری بھاریا (30 سال، ساکن بگاڑ، ضلع راج پور، بدوانی)، دھیان سنگھ بھوکم خیریہ (50 سال، ساکن امباپور، ضلع کھرگون)، گنگارام روما سنگھ آریہ (45 سال، ساکن جلال آباد، ضلع کھرگون) اور راہل رام سنگھ داور (30 سال، ساکن کندامال ٹھاکر، تعلقہ ٹھیکری، ضلع بدوانی) کے طور پر کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس میں سورج گنجال نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم تقریباً ایک سال قبل فریادی کے گھر پر مزدوری کرچکا تھا۔ اسی دوران اسے گھر اور اہل خانہ سے متعلق معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ الزام ہے کہ اسی معلومات کی بنیاد پر اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی اور بعد ازاں ناندگاؤں میں واردات کو انجام دیا۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے سونے اور چاندی کے زیورات کے ساتھ نقد رقم بھی برآمد کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد شدہ مال میں سونے کی انگوٹھی، کانوں کے زیورات، پینڈنٹ، منگل سوتر، چین و دیگر زیورات کے علاوہ چاندی کے زیورات اور تقریباً 4 ہزار 760 روپے نقد شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا مسروقہ مال ضبط کیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان کو مالیگاؤں تعلقہ پولیس کے حوالے کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 23 ستمبر 2026 تک پولیس تحویل میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ پولیس اب ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کرکے واردات میں شامل دیگر ساتھیوں اور باقی مسروقہ مال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اس کارروائی میں ایس پی ڈاکٹر ڈی۔ ایس۔ سوامی، ایڈیشنل ایس پی سورج گونجال، ایس ڈی پی او راکیش مانگاؤکر، پولیس انسپکٹر دتا شندے، پولیس انسپکٹر راہل مورے، مالیگاؤں تعلقہ پولیس انسپکٹر رگھوناتھ شیگر سمیت مقامی جرائم شاخ اور مالیگاؤں تعلقہ پولیس کے افسران و اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کی جانب سے فرار دیگر ملزمان کی تلاش اور ڈکیتی کے باقی مال کی برآمدگی کے لیے تفتیش جاری ہے۔پولس کی اس کارروائی سے ناندگاؤں بزرگ ڈکیتی معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ مزید انکشافات کی توقع کی جارہی ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com