ہفتہ وصولی اور بلیک میلنگ کا انکشاف! فوٹو اسٹوڈیو کے مالک کا اغوا، تشدد اور ذاتی تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے دھمکیاں،4 ملزمین گرفتار
5 لاکھ روپے کا مطالبہ،20 ہزار روپے آن لائن اور نقد رقم وصولی کا الزام،مزید ایک لاکھ روپے مانگنے پر تاجر نے پولس سے رجوع کیا
مالیگاؤں: 23 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں کے آزاد نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک فوٹو اسٹوڈیو کے مالک کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے، اس کے موبائل فون سے ذاتی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے بلیک میل کرنے اور رقم وصول کرنے کے سنگین معاملے میں آزاد نگر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔پولیس میں درج شکایت اور ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال کی پریس بریفنگ کے مطابق مبینہ واقعہ 19 جولائی 2026 کی رات پیش آیا۔ فریادی فوٹو اسٹوڈیو کے مالک کو امن چوک سے مبینہ طور پر زبردستی گاڑی میں بٹھا کر گولڈن نگر علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ملزمین نے لکڑی کے ڈنڈوں اور بیلٹ سے اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ شکایت کے مطابق رقم دینے سے انکار کرنے پر ملزمین نے مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر ثمرین برقعہ شاپ کے ذریعے 20 ہزار روپے آن لائن منتقل کروائے، جبکہ نقد رقم بھی حاصل کی۔ پولس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
واقعے کے دوران ملزمین نے مبینہ طور پر فوٹو اسٹوڈیو کے مالک کے موبائل فون سے اس کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز اپنے موبائل فون میں محفوظ کرلیں۔ ان تصاویر اور ویڈیوز کو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر تاجر کو خاموش رہنے پر مجبور کرنے کا بھی الزام ہے۔پولس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو ملزمین مبینہ طور پر فریادی کے اسٹوڈیو پر پہنچے اور پہلے سے حاصل کی گئی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ مسلسل مبینہ ہراسانی سے پریشان تاجر نے بالآخر 21 ستمبر کو آزاد نگر پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروائی۔ شکایت موصول ہوتے ہی آزاد نگر پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مومن تہمید انور، عابد حسین ابوطلحہ، بلال محمد احمد عرف بلال سردار اور شہباز انجم محمد احمد کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزمین کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولس کسٹڈی حاصل کی گئی ہے۔
پولس کے مطابق اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث شہباز کمانڈو سمیت دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولس اس بات کی بھی تفتیش کررہی ہے کہ اس معاملے میں مزید کتنے افراد شامل ہیں اور مبینہ طور پر حاصل کی گئی تصاویر و ویڈیوز کا کہیں استعمال یا فارورڈ تو نہیں کیا گیا۔ یہ کارروائی ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی ایس سوامی اور اے ایس پی سورج گنجال ،ڈی وائے ایس پی سدھارتھ بروال کی رہنمائی میں کی گئی۔ آزاد نگر پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر سندیپ گھگے اور ڈی بی اسکواڈ نے کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ بلیک میلنگ، ہفتہ وصولی اور اس نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولس کی جانب سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض یا ذاتی تصاویر و ویڈیوز کو آگے فارورڈ کرنے والے افراد کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com