ناسک رینج میں اسکولوں کی جانچ پڑتال کرنے دو اسسٹنٹ پولس کمشنر کو ذمہ داری



ناسک رینج میں اسکولوں کی جانچ پڑتال کرنے دو اسسٹنٹ پولس کمشنر کو ذمہ داری



ایک ہزار تین سو سے زائد تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی دو ٹیمیں تشکیل 




ناسک : 29 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے مبینہ فرضی تقرریوں اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں دو الگ الگ مقدمات درج ہیں۔ابتدا میں ان دونوں مقدمات کی تفتیش شہر کی کرائم برانچ کے معاون پولس کمشنر سندیپ مٹکے کے سپرد تھی، لیکن تفتیش کے دوران معاملے کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔اس کے بعد تفتیش کو دو حصوں میں تقسیم کرکے الگ الگ افسران کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس ضمن میں ناسک پولس کمشنر نے دو الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی ہے۔یہ ٹیم ایک ہزار تین سو سے زائد تدریسی و غیر تدریسی عملہ جو 2012 - 13 اور 2014 میں تقرر ہوئے کے کاغذات اور 2019 سے 2025 تک بھرتی ہوئے تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے کاغذات کی جانچ و تصدیق کریگی ۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں درج مقدمے کی تفتیش معاون پولس کمشنر سندیپ مٹکے کریں گے، جبکہ مارچ 2026 میں درج مقدمے کی تحقیقات امبڑ ڈویژن کے معاون پولس کمشنر سچن باری کے حوالے کی گئی ہیں۔اس کا مقصد دونوں مقدمات کی متوازی اور تیز رفتار تفتیش کرنا ہے۔ 


اس مبینہ گھوٹالے کا دائرہ شمالی مہاراشٹر کے چار اضلاع، ناسک، جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ مختلف اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے نام پر فرضی تقرری کے احکامات تیار کیے گئے اور ان کی بنیاد پر شالارتھ آئی ڈی بنائی گئیں۔ ان آئی ڈیز کے ذریعے سرکاری خزانے سے تنخواہوں اور دیگر مالی فوائد کی ادائیگی کیے جانے کا شبہ ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اب تک تقریباً 1200 افراد کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں محکمۂ تعلیم کے افسران، اساتذہ، غیر تدریسی ملازمین اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد شامل ہونے کی اطلاع ہے۔ معاملے میں بعض اعلیٰ تعلیمی افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں، تاہم کسی بھی شخص کے خلاف الزامات کو عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے