نئی اسکولوں کی منظوری کے اختیارات وزیرِ تعلیم کے پاس ہی برقرار،سیاسی بحث کے درمیان محکمۂ تعلیم کی وضاحت
بعض اختیارات افسران کو دیئے ہیں لیکن نئی اسکولوں کی منظوری کا اختیار وزیرِ تعلیم سے واپس نہیں لیا گیا
ممبئی : 6 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے محکمۂ اسکولی تعلیم نے ان خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی اسکولوں کو منظوری دینے کے اختیارات اب بھی وزیرِ تعلیم کے پاس ہی برقرار ہیں۔ محکمہ نے واضح کیا کہ حالیہ انتظامی فیصلے کو وزیرِ تعلیم کے اختیارات مکمل طور پر ختم یا کم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ کچھ اہم اختیارات افسران کو منتقل کئے گئے ہیں ۔محکمہ کے مطابق اسکولوں سے متعلق بعض انتظامی معاملات میں تیزی، شفافیت اور آسانی پیدا کرنے کے مقصد سے کچھ اختیارات محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری اور محکمۂ تعلیم کے کمشنر کو سونپے گئے ہیں۔ ان میں خود مالی معاونت کی بنیاد پر نئی کلاسز یا شاخوں کی منظوری اور مختلف تعلیمی بورڈز سے متعلق بعض ’این او سی‘ اور ان کی تجدید جیسے معاملات شامل ہیں۔
نئی اسکول کی منظوری کا فیصلہ وزیر کے پاس:
محکمۂ اسکولی تعلیم نے خاص طور پر واضح کیا ہے کہ نئی اسکول شروع کرنے کی منظوری دینے کا بنیادی اختیار وزیرِ اسکولی تعلیم کے پاس ہی ہے۔ اس وضاحت کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت نہیں ملتی کہ نئی اسکولوں کی منظوری کا مکمل اختیار انتظامی افسران کو منتقل کردیا گیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اختیارات کی تقسیم کا مقصد سرکاری کام کاج کو مزید مؤثر بنانا، فیصلوں میں تیزی لانا اور اسکولوں سے متعلق مختلف درخواستوں کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے ای-گورننس، انتظامی اصلاحات اور کاروبار و خدمات میں آسانی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
سیاسی بحث کے درمیان وضاحت:
حالیہ اختیارات کی منتقلی کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ بعض حلقوں نے اسے وزیرِ تعلیم کے اختیارات محدود کرنے سے جوڑا، تاہم محکمۂ اسکولی تعلیم کی تازہ وضاحت نے واضح کیا ہے کہ نئی اسکولوں کی منظوری کا اہم اختیار وزیرِ تعلیم کے پاس بدستور موجود ہے۔ مختصر یہ کہ حکومت نے انتظامی رفتار بڑھانے کے لیے بعض اختیارات افسران کو دیے ہیں، لیکن نئی اسکولوں کی منظوری کا اختیار وزیرِ تعلیم سے واپس نہیں لیا گیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com