اقلیتی کمیشن کا 8 ستمبر کو اردو گھر میں اہم اجلاس،چیرمین پیارے خان سمیت حکام کی آمد،سماجی کارکنوں کی عوام سے شرکت کی اپیل
تعلیم ،روزگار، خواتین کے مسائل، بجلی کمپنی ،سڑک حادثات، نشہ،جرائم، سمیت اقلیتی مسائل حل کرنے پریس کانفرنس میں اعلان
مالیگاؤں : 6 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) شہر مالیگاؤں کے سنگین اور ناگفتہ بہ مسائل، بالخصوص صحت، تعلیم، کارپوریشن میں اقلیتی نمائندگی، بجلی کمپنی کی من مانیوں اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں مالیگاؤں شہر کے سوشل ورکروں کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شفیق اینٹی کرپشن ،صابر نورانی، شعبان شاہ، فقیرا حاجی ،ضیا مسکان، خالد ایس کے ،ندیم احمد، منا ممبر ،خورشید بھائی، عارف آیا ممبر سمیت شہر کے فعال سماجی کارکنان اور ذمہ داران نے اطلاع دی کہ آنے والی 8 ستمبر کو شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک اردو گھر میں ایک اہم پروگرام و اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ضیاء پیارے خان، کمیشن کے تمام 11 اراکین، کلکٹر ناسک، ایس پی ناسک، میونسپل کمشنر، میئر، پرانت آفیسر ،ایڈیشنل ایس پی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام خود موجود رہیں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران سماجی رہنماؤں نے شہر کے بنیادی و معاشی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سول اسپتال میں ہنگامی طبی سہولیات کا فقدان ہے۔بالخصوص زچگی (ڈیلیوری) کے زمرے میں وینٹی لیٹر، آئی سی یو اور لیڈی گائناکالوجسٹ نہ ہونے کے باعث غریب خواتین کو دھولیہ ، اورنگ آباد یا ممبئی جیسے دور دراز علاقوں میں ریفر کر دیا جاتا ہے، جس سے متعدد جانیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں بڑھتے ہوئے نشے کا رجحان، اس کی وجہ سے چھینا چھپٹی اور جرائم کی وارداتیں، اور پاور لوم مزدوروں کی ابتر معاشی حالت، اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسیں اور مونسپل اسکولوں کی خستہ بھی انتہائی تشویشناک مسائل ہیں۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کارپوریشن کے ملازمین میں مسلمانوں کا تناسب جو ماضی میں 80 فیصد تھا، اب گھٹ کر صرف 5 فیصد رہ گیا ہے اور 2027 تک یہ مزید کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح بجلی کمپنی کی بے حسی اور من مانی، ہائی وے پر پیش آنے والے حادثات اور گائے کے نام پر گاہکوں و عام شہریوں کو ہراساں کرنے جیسے مسائل کو بھی حکومت کے سامنے رکھا جائے گا۔ تمام سرکاری دفاتر اور قومیائے گئے (نیشنلائزڈ) بینکوں کے شہر کے ایک مخصوص حصے میں ہونے سے بھی عام شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سماجی کارکنان نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی پروگرام یا جلسہ نہیں ہے بلکہ یہ مہاراشٹر حکومت کا ایک سرکاری اور انتظامی اقدام ہے جو اقلیتوں کے مسائل سننے اور موقع پر ہی ان کا حل نکالنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شہر کے تمام سماجی، تعلیمی و سیاسی اداروں، ممبران اور خاص طور پر ماؤں اور بہنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 8 ستمبر کو شام 6 بجے اردو گھر میں بڑی تعداد میں شرکت کریں اور اپنی موجودگی درج کرا کر شہر کی ترقی اور حقوق کے لیے ایک آواز بنیں۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com