ناسک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سدھاکر مورے معطل،وزیر صحت کی کارروائی سے محکمہ میں کھلبلی
ناسک : 5 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک ضلع پریشد کے ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر سدھاکر مورے کے خلاف مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے بعدریاستی حکومت نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا ہے۔وزیر صحت پرکاش ابٹکر کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے بعد ضلع کے محکمہ صحت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ڈاکٹر سدھاکر مورے کے کام کاج کے سلسلے میں گزشتہ کئی برسوں سے شکایات موصول ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ضلع کے وزراء سمیت متعدد عوامی نمائندوں نے بھی ان کے خلاف شکایات کی تھیں۔ان شکایات میں ملازمین کو مبینہ طور پر پریشان کرنا، کام میں غفلت، ڈیوٹی پر حاضر نہ رہنا، صحت مراکز کا دورہ نہ کرنا اور تبادلوں کے معاملات میں مبینہ مالی بے ضابطگی جیسے الزامات شامل تھے۔
محکمہ صحت نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈاکٹر مورے کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک سال قبل ضلع پریشد کی وشاکھا کمیٹی میں بھی شکایت درج ہوئی تھی اور اس معاملے میں انکوائری کی گئی تھی۔ کمیونٹی افسران کے تبادلوں کے معاملے میں بھی ان کے کام کاج پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ ضلع کے دورے پر پہنچے ریاستی وزیر صحت پرکاش ابٹکر کے سامنے بھی ڈاکٹر مورے کے خلاف بڑی تعداد میں تحریری شکایات پیش کی گئیں۔ بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد محکمہ صحت نے تقریباً 15 روز قبل ڈاکٹر مورے کو نوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی تھی۔ ڈاکٹر مورے کی جانب سے اس نوٹس کا جواب بھی دیا گیا۔تاہم محکمہ صحت کے مطابق یہ وضاحت تسلی بخش نہیں پائی گئی۔اس کے بعد حکومت نے ڈاکٹر سدھاکر مورے کی معطلی کے احکامات جاری کردیئے۔
اسی دوران سرگانا تعلقہ کے پانگڑنے پرائمری ہیلتھ سینٹر کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جےندر تھویل کو بھی حکومت نے معطل کر دیا ہے۔ ان کے خلاف بھی پہلے سے شکایات اور انکوائری جاری ہونے کی اطلاع ہے۔ عوامی نمائندوں کی جانب سے ان پر ہیڈکوارٹر پر موجود نہ رہنے اور مریضوں کا باقاعدہ معائنہ نہ کرنے سے متعلق شکایات کی گئی تھیں۔ناسک ضلع میں صحت کے دو اہم افسران کے خلاف ایک ہی وقت میں کارروائی نے محکمہ صحت کی کارکردگی اور انتظامی نگرانی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔حکومت کی اس کارروائی کو مسلسل شکایات کے بعد اٹھایا گیا سخت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم ڈاکٹر مورے پر عائد الزامات کے حتمی حقائق کا تعین متعلقہ محکمانہ کارروائی اور انکوائری کے نتیجے سے ہوگا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com