وزیر تعلیم کے اختیارات ختم،اب ڈائریکٹر اور کمشنر کریں گے فیصلہ، مہاراشٹر حکومت کا تاریخی فیصلہ!
اسکولوں کی منظوری اور پروموشن کے تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل،اسکول انتظامیہ میں خوشی کی لہر
پونہ/ممبئی : 4 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے محکمہ تعلیم نے انتظامی شفافیت اور کارکردگی میں تیزی لانے کے مقصد سے ایک انتہائی اہم اور کیبنٹ لیول کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں نئے اسکولوں کی منظوری، اسکولوں کا درجہ بڑھانے (Upgradation)، خود مالی اعانت (سلیف فائنانس) کی بنیاد پر نئی شاخوں (Branches) اور کلاسز (Divisions) کی منظوری دینے جیسے تمام اہم اختیارات اب وزیر تعلیم کے ہاتھ سے نکال کر ایجوکیشن کمشنر اور ڈائریکٹرز کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔حکومت کے اس فیصلے سے تعلیمی اداروں اور اسکول انتظامیہ کو بڑی راحت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ریڈ ٹیپزم اور منترالیہ کے چکروں سے نجات
اس سے قبل اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے یا نئے درجات کی منظوری (Letter of Intent & Letter of Approval) حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کو منترالیہ (وزارت) اور وزیر تعلیم کے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ طویل بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت کے باعث فائلیں مہینوں التوا کا شکار رہتی تھیں۔ تاہم، اب تمام اختیارات کو 'ڈی سینٹرلائز' (De-centralize) کر کے انتظامی سطح پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ فیصلے سیکنڈوں اور دنوں میں ممکن ہو سکیں۔
CBSE، ICSE اور بین الاقوامی بورڈز کی این او سی بھی ہوئی آسان
حکومت کے نئے حکم نامے کے مطابق، صرف ریاستی بورڈ ہی نہیں بلکہ CBSE, CISCE, IB, IGCSE اور CIE جیسے ملکی و بین الاقوامی تعلیمی بورڈز سے الحاق (Affiliation) کے لیے درکار 'ناحرکت سرٹیفکیٹ' (NOC) جاری کرنے اور ان کی تجدید (Renewal) کا اختیار بھی اب ایجوکیشن کمشنر کی سطح پر تفویض کر دیا گیا ہے۔ اس قدم سے بین الاقوامی سطح کے معیاری اسکولوں کو قائم کرنے میں حائل بڑی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔
'وکست مہاراشٹر 2047' اور ای-گورننس کا ماسٹر اسٹروک
حکومت نے وضاحت کی ہے کہ یہ فیصلہ 'وکست مہاراشٹر 2047' (Developed Maharashtra 2047) کے ویژن اور 100 فیصد ای-گورننس (E-Governance) کو نافذ کرنے کی کڑی ہے۔ 'مہاراشٹر سیلف فائنسڈ اسکولز ایکٹ 2012' میں ترمیم اور اصلاحات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تعلیم کے میدان میں انتظامی کاغذی کارروائیوں کو کم سے کم کیا جائے اور نظام میں مکمل شفافیت لائی جائے۔
تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر
ریاست بھر کی اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کرپشن اور رشوت خوری پر لگام لگے گی، جبکہ نچلی سطح پر کام کرنے والے ڈائریکٹرز اور کمشنرز مقامی ضرورتوں کے مطابق فوری اور درست فیصلے لے سکیں گے، جس کا براہ راست فائدہ طلبہ اور تعلیمی نظام کو پہنچے گا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com