ایس آئی آر کی زد میں الیکشن کمشنر سمیت کئی آئی اے ایس افسران، نوٹس جاری



ایس آئی آر کی زد میں الیکشن کمشنر سمیت کئی آئی اے ایس افسران، نوٹس جاری




الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور سابق و موجودہ آئی اے ایس افسران کے ووٹر لسٹ ریکارڈ میں خامیاں




نئی دہلی: 22 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) دہلی میں جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو سمیت کئی اعلیٰ عہدیداران اور سابق و موجودہ آئی اے ایس افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس ووٹر ریکارڈ میں پائی جانے والی مبینہ خامیوں اور سابقہ انتخابی اعداد و شمار سے ریکارڈ کی عدم مطابقت کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔


ریکارڈ کی عدم مطابقت اور میپنگ نہ ہونے کا معاملہ

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، نوٹس جاری کرنے کی وجوہات میں ریکارڈ میں ’’ڈسکریپینسیز‘‘  (خامیاں) اور ’’نو میپنگ‘‘ شامل ہیں۔ میپنگ سے مراد موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سابقہ انتخابی فہرستوں سے جوڑنے کا عمل ہے۔ تاہم، تمام متعلقہ افراد کے ریکارڈ میں پائی جانے والی مخصوص خامیوں کی تفصیلات رپورٹ میں مکمل طور پر واضح نہیں کی گئی ہیں۔دہلی میں جاری خصوصی جامع نظرثانی کے دوران تقریباً 33 لاکھ ووٹروں کو اپنی انتخابی اہلیت کی تصدیق کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ کیجریوال سمیت کئی معروف سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس عمل کا مقصد ووٹر فہرستوں میں موجود ریکارڈ کی جانچ اور ضروری تصدیق کرنا ہے۔ 

شفافیت اور نوٹس کی وجوہات پر سوالات

ایس آئی آر کے عمل کے دوران نوٹس جاری کیے جانے کی وجوہات اور ان کی تفصیلات کو لے کر شفافیت کے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں نوٹس حاصل کرنے والے ووٹروں کے نام، نوٹس کی مخصوص وجوہات اور خامیوں کی درجہ بندی کے معیار کو عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ اس معاملے سے متعلق درخواست پر 22 ستمبر 2026 کو سماعت کرنے والی ہے۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام حذف کرنے سے قبل متعلقہ افراد کو واضح وجوہات اور مناسب سماعت کا موقع فراہم کیا جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے