ناسک :11 اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج،جعلی دستاویزات کے ذریعے تنخواہوں کی وصولی کا شاخسانہ


ناسک :11 اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج،جعلی دستاویزات کے ذریعے تنخواہوں کی وصولی کا شاخسانہ 



ناسک/ دیولالی کیمپ: 11 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کی جانب سے اساتذہ کے اسکول آئی ڈی گھوٹالے کی تحقیقات جاری ہے، وہیں دیولالی کیمپ کے ڈاکٹر سبھاش گجر ہائی اسکول میں تنخواہ کے تعین میں بددیانتی کا انکشاف ہوا ہے۔دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں 11 اساتذہ کے خلاف جعلی دستاویزات تیار کرکے اور تنخواہ کا تعین کرکے ادارہ اور حکومت کو دھوکہ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

شنکر ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری رتن راجل داس چاولہ کی شکایت کے مطابق بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ 2009 سے 2022 کے درمیان ڈاکٹر سبھاش گجر ہائی اسکول میں پیش آیا۔الزام ہے کہ متعلقہ اساتذہ نے تنخواہوں کے تعین کے لیے ضلع پریشد اور ڈپٹی ڈائرکٹر آف ایجوکیشن کے دفتر کو سرکاری خط و کتابت یا منظوری کا ریزولیوشن پیش نہ کرنے کے باوجود جھوٹے اور فرضی دستاویزات تیار کیے ہیں۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ اس بنیاد پر تنخواہ مقرر کر کے ادارے اور حکومت سے مالی طور پر دھوکہ کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا ہے۔ سب انسپکٹر پاڈیکر تحقیقات کر رہے ہیں۔جن اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں پونم سمیر مکھرجی، پرگیہ نتن راجے، منموہن شیام ہیمنانی، لکشمن یشونت مسالے، وشومبھری پنجومل دولتانی، پرینکا وجے آہوجا، سویتا ارجن سنگھ اڈوانی، بھاگیہ شری سنجے پریوکا دُوُشّا، تُشُلبھا، تُشُلّا سجاتا سری کرشنا ٹھاکر شامل ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے