مالیگاؤں کانگریس ورکروں میں ناراضگی،نئے صدر کا اعلان اور اعجاز بیگ کی خدمات کو نظر انداز کرنے پر تنقید
ایک صحیح فیصلہ غلط طریقے سے ہوا، فیصلہ پر نظر ثانی کرنے ریاستی ہائی کمان سے اپیل
مقامی ذمہ داران کو اعتماد نہیں لیا گیا، کانگریس بھون قدوائی روڈ پر پریس کانفرنس
مالیگاؤں: (بیباک نیوز اپڈیٹ) سیاسی حلقوں میں فراخ دلی کے لیے مشہور شیخ رشید سے زیادہ فراخ دل کوئی سیاستدان نہیں سمجھا جاتا۔ اسی دوران مالیگاؤں کانگریس کی سیاست میں ایک اہم موڑ آیا ہے۔ نئے صدر کے اعلان پر مقامی کانگریس کارکنوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ایک زمانہ تھا جب کانگریس مالیگاؤں شہر کی سب سے بڑی اور طاقتور سیاسی جماعت تھی، مگر وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے اور ایک مرحلے پر کانگریس ڈوبتی ہوئی کیفیت میں آ گئی تھی۔ اس نازک موڑ پر اعجاز بیگ نے ذمہ داری سنبھالی اور ڈوبتی ہوئی کانگریس میں نئی جان پھونک دی۔ ان کی صدارت میں مالیگاؤں کانگریس دوبارہ پروان چڑھنے لگی اور پارٹی نے بحالی کی راہ اختیارکی۔گرچہ اعجاز بیگ کا انداز بیان تیکھا ہے لیکن اس طرح انکی بے عزتی نہیں کی جاسکتی ۔اس طرح کے جملوں کا اظہار کانگریس بھون قدوائی روڈ پر منعقدہ پریس کانفرنس سے نائب صدر جمیل کرانتی نے پیش کی ۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کا فیصلہ منظور ہے لیکن طریقہ کار مناسب نہیں تھا ۔انہوں نے نئے صدر عمران انجینئر کو مبارک باد بھی پیش کی ۔
اس پریس کانفرنس میں عبد الغفار شیخ ،صابر بھائی اور خان ثاقب الایمان وغیرہ نے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ حال ہی میں کانگریس ہائی کمان کی جانب سے نئے صدر کا اعلان مقامی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غیر مناسب اور یک طرفہ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہائی کمان کو اعجاز بیگ اور مالیگاؤں کانگریس کے نمائندوں سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے کوئی باہمی فیصلہ کیا جاتا تو اسے قبول کیا جاتا۔جمیل کرانتی و دیگر نے کہا کہ "کانگریس کی صدارت مالیگاؤں پر لاد دی گئی ہے۔ ایک صحیح فیصلہ غلط طریقے سے لیا گیا ہے۔"
مالیگاؤں کانگریس کے ذمہ داران کا مطالبہ ہے کہ ہائی کمان اس معاملے پر دوبارہ غور کرے اور مقامی قیادت کے ساتھ مشاورت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرے تاکہ پارٹی میں یکجہتی برقرار رہے اور آئندہ انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔یہ صورتحال مالیگاؤں میں کانگریس کی اندرونی سیاست کو ایک بار پھر اجاگر کر رہی ہے جہاں مقامی قیادت اور کارکنوں کی رائے کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔


0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com