جنم داخلہ معاملہ میں مزید تین افراد کی ضمانت منظور، لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی :مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی
مزید ملزمان کی ضمانت کیلئے مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کوشاں، آئندہ سماعت 22 اور 27 جولائی کو
جنم داخلہ معاملہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہے :مستقیم ڈگنیٹی
مالیگاؤں :15جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کے "جنم داخلہ" (برتھ سرٹیفکیٹ) مبینہ معاملہ کے مقدمات میں آج عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین ایجنٹوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ آج معزز جج اشون بھوبے صاحب کی عدالت کے روبرو ان مقدمات کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ دفاعی وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تین مبینہ ایجنٹس صغیر ماسٹر، عتیق منا اور فیصل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کے کیسز میں بھی متعدد ایجنٹس کو عدالت کی جانب سے ضمانت مل چکی ہے۔اس طرح کی تفصیلات ممبئی ہائی کورٹ سے مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے معاون کنوینر مستقیم ڈگنیٹی نے نمائندہ بیباک کو دی ۔انہوں نے بتایا کہ غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی درخواست کیلئے بھی ہماری کوشش جاری ہے، عدالتی کارروائی کے مطابق، اب سب کی نظریں خواتین ملزمان پر مرکوز ہیں۔ غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی ضمانت کی درخواستوں پر اب اگلی سماعت 22 جولائی کو شام 5:00 بجے ہوگی۔ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کی جانب سے قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی بنیادوں پر انہیں بھی جلد ہی ضمانت مل جائے گی۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی آصف شیخ کی سرپرستی میں قانونی امداد فراہم کررہی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ، اس مقدمے سے جڑے سرکاری ملازمین بشمول عبد التواب شیخ ،دھارنکر، مہاجن اور امبورے کے کیسز کی الگ الگ سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ متاثرین کی قانونی امداد کرنے والی مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی آصف شیخ کی سربراہی میں اس معاملے میں اول روز سے متحرک ہے اور اب تک ہائی کورٹ کے ذریعے 8 افراد کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔
مائناریٹی کمیٹی غزالہ پروین، عبدالتواب اور دیگر تمام بے قصور افراد کے مقدمات کی پیروی پوری مضبوطی سے کر رہی ہے۔کمیٹی کے سرگرم وکیل سدھانشو مہندر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "غزالہ پروین کے معصوم بچہ بھی آج عدالت میں موجود تھا، جن کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے ہم امید کر رہے ہیں کہ اگلی سماعت پر عدالت انہیں فوری ضمانت کی راحت فراہم کرے گی۔"۔
مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی اور کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے اس پورے معاملے کو شہر کی ساکھ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ
ابتدائی طور پر اس کیس کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں سے جوڑ کر شہر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ کو اب تک عام نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کو شہر میں کسی بھی قسم کے بنگلہ دیشی یا روہنگیا باشندے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔کارپوریشن اور تحصیل انتظامیہ اور کلرکوں کی معمولی و تکنیکی غلطیوں کی سزا عام اور غریب شہریوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے، جنہیں سنگین دفعات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔مستقیم ڈگنیٹی نے آخر میں عزم ظاہر کیا کہ کمیٹی انصاف کی یہ جنگ آخری دم تک جاری رکھے گی اور ان شاء اللہ بہت جلد تمام بے گناہ شہری اس بحران سے سرخرو ہو کر باہر نکلیں گے۔ یہ مقدمات صرف چند افراد کے نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں شہر کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہیں۔


0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com