کیا حکومت عوام کو غلام بنانا چاہتی ہیں؟بی جے پی مردہ باد کہنے پر تڑی پار نہیں کیا جا سکتا!حکومت اور پولس کو ہائی کورٹ کی سرزنش



کیا حکومت عوام کو غلام بنانا چاہتی ہیں؟بی جے پی مردہ باد کہنے پر تڑی پار نہیں کیا جا سکتا!حکومت اور پولس کو ہائی کورٹ کی سرزنش


ہائی کورٹ نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے شخص کیخلاف شہر بدری کی کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کیا 



ممبئی: 3 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ممبئی پولس نے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر سیاسی پارٹی کے کارکن کو شہر بدر کر دیا۔ پولس کی اس کارروائی کے خلاف کارکن کے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد ہائی کورٹ نے پولس اور حکومت کی سخت الفاظ میں سرزنش کی ہے۔ "شہریوں کو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا پورا حق ہے۔ اس لیے 'بی جے پی مردہ باد، امت شاہ مردہ باد' جیسے نعرے لگانا کسی کی شہر بدری کی وجہ نہیں ہو سکتا،"جسٹس مادھو جمدار نے درخواست گزار کے شہر بدری کے حکم کو مسترد کر دیا۔ جج نے وارننگ بھی دی ہے کہ پولس کو جرمانہ کیا جائے گا۔


تفصیلات کے مطابق 'سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا' کے جنرل سکریٹری سید احمد عبدالواحد چودھری نے شہریت قانون میں ترمیم سمیت مختلف مسائل پر مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ جس کے بعد پولس نے چودھری کے خلاف شہر بدری(تڑی پار) کا حکم جاری کیا۔چودھری نے پولس کی اس کارروائی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ کل اس عرضی کی سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جمعدار نے پولس کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کیا آپ عوام کو حکومت کا غلام بنانا چاہتے ہیں؟ عدالت کا سوال

سید احمد عبدالواحد چودھری کی درخواست پر سماعت کے دوران ہائیکورٹ نے پولس پر سوالات کی بوچھار کردی۔ "صرف حکومتی فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شہری کو شہر بدر کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنے سے شہریوں کے آزادی اظہار اور عزت کے ساتھ جینے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ کورٹ نے مزید کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا آپ عوام کو حکومت کا غلام بنانا چاہتے ہیں؟ اگر شہری حکومت کے خلاف احتجاج کریں تو آپ مقدمہ درج کرائیں۔ درخواست گزار نے صرف نعرے لگائے ہیں" سرکار مردہ باد اور 'بی جے پی مردہ باد ' کے نعرے لگائے ہیں۔ ایسے نعرے بھی نہیں دے سکتے؟ ایسے نعروں پر شہر بدری کے احکامات کیوں جاری کیے گئے؟ عدالت نے سعید کے خلاف شہر بدری کا نوٹس منسوخ کرتے ہوئے ان کی درخواست پر فیصلہ دیا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے