مالیگاؤں: ایس آئی آر سروے میں ایک لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام ڈیلیٹ ہونے کا خدشہ ،کسی بھی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے ڈیلیٹ نہ ہو، آصف شیخ


 

مالیگاؤں: ایس آئی آر سروے میں ایک لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام ڈیلیٹ ہونے کا خدشہ 

 

کسی بھی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے ڈیلیٹ نہ ہو، آصف شیخ کی قیادت میں وفد کی پرانت آفیسر سے ملاقات 


 

ایس آئی آر فارم بھرنے کیلئے عوام بیدار رہیں، اسلام پارٹی ہیلپ سینٹر شروع کر عوام کی مدد کریگی 

 

​مالیگاؤں: 30 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)شہر مالیگاؤں میں ایس آئی آر (S.I.R) فارم بھرنے کے پہلے دن اسلام پارٹی کے اعلیٰ وفد نے سابق ایم ایل اے آصف شیخ رشید کی قیادت میں پرانت آفس پہنچ کر حکام سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی میئر نسرین شیخ اور پارٹی کے تمام کارپوریٹرز اور عہدیداران شامل تھے۔ وفد نے سینٹرل اسمبلی حلقے کے الیکشن آفیسر (پرانت آفیسر )، تحصیلدار اور الیکشن برانچ کے حکام کے ساتھ ایک اہم اور تفصیلی میٹنگ کی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے آصف شیخ نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ ناسک ضلع کے میپنگ ڈیٹا کے مطابق، مالیگاؤں میں 75 فیصد میپنگ کا کام ہوا تھا، لیکن اس میں سے تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار 275 (1,26,275) ووٹرز کے نام ابھی بھی تکنیکی خرابی یا غلطیوں کی وجہ سے "ہوا میں لٹکے" ہوئے ہیں اور ان کی میپنگ مکمل طور پر قبول (Accept) نہیں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے تقریباً 77,392 ووٹرز ایسے ہیں جن سے بی ایل او (BLO) کا اب تک رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔آصف شیخ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ جن کا "میپنگ" کا عمل پورا ہو چکا ہے، انہیں اب فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ​چاہے کسی کی میپنگ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، ووٹر لسٹ میں موجود تمام شہریوں کے لیے ایس آئی آر فارم بھرنا لازمی ہے۔ ​اس مہم کے لیے صرف ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر عوام نے فارم بھر کر بی ایل او کے پاس جمع نہیں کرائے، تو نئی لسٹ جاری ہونے پر ان کے نام کاٹ دیے جائیں گے۔ ​جو لوگ روزگار، تعلیم یا شادی کی وجہ سے شہر سے باہر ہیں، ان کے گھر والے انہیں بلا کر ان کے فارم لازمی طور پر پُر کروائیں۔​ سابق ایم ایل اے نے اعلان کیا کہ اسلام پارٹی کل شہر کے مختلف وارڈز میں ہیلپ سینٹرز قائم کرنے کا شیڈول جاری کرے گی، جہاں پارٹی کے کارکنان اور وہ خود عوام کی رہنمائی اور فارم بھرنے میں مدد کے لیے موجود رہیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ لڑائی نوٹسز کی سماعت اور ثبوت فراہم کرنے کے آخری دن تک لڑی جائے گی تاکہ کسی بھی شہری کا نام لسٹ سے خارج نہ ہو۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ 2014 سے بی جے پی حکومت مسلمانوں کو مختلف قوانین (جیسے این آر سی، سی اے اے، تین طلاق قانون ، اور اب یو سی سی) کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "روز روز ہماری پیٹھ پر وار کرنے سے بہتر ہے کہ حکومت ایک ہی بار جو کرنا چاہتی ہے یا آئین بدلنا چاہتی ہے، کر ڈالے، روز روز کی پریشانی ختم ہو"۔​انہوں نے پیپر لیک (NEET اور TET) جیسے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے اور مہنگائی و بے روزگاری سے عوام کا ذہن بھٹکانے کے لیے ایسے متنازع اقدامات کرتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ صبر اور حکمت سے کام لیں اور کسی بھی قسم کے جذباتی قدم سے گریز کریں۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے