سمیہ صدف شیخ خلیل کے ہاتھوں دارالیتمی حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہ کا پروقار افتتاح پانچ سو بچیوں کی دینی، عصری تعلیم و کفالت کا نظم


سمیہ صدف شیخ خلیل کے ہاتھوں دارالیتمی حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہ کا پروقار افتتاح 


پانچ سو بچیوں کی دینی، عصری تعلیم و کفالت کا نظم،ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ محفوظ، نگراں کمیٹی کی تشکیل کا اعلان : آصف شیخ رشید


یتیموں کی کفالت و تعلیم و تربیت کرنے والے اللہ اور اسکے رسول کے محبوب، علماء کرام کی مخطابت 


مالیگاؤں : 17 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کی فلاحی تاریخ میں ایک اور روشن باب کا اضافہ کرتے ہوئے، الحاج خلیل دادا کی دیرینہ خواہش کی تکمیل میں ’دارالیتمیٰ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا‘ کا شاندار افتتاح عمل میں آیا۔ اس ادارے کا افتتاح سمیہ صدف شیخ خلیل کے مبارک ہاتھوں سے انجام پایا۔ یہ ادارہ یتیم بچیوں کی کفالت، دینی و عصری تعلیم اور ان کی تربیت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

اس پروقار موقع پر خلیل دادا کی سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ادارہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جس کا مقصد علاقے کی ان بچیوں کو سہارا دینا ہے جو وقت کے تھپیڑوں کا شکار ہیں۔ یہ یتیم خانہ علاقے میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور یتیم بچیوں کو خود مختار اور باوقار شہری بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

افتتاحی تقریب حاجی شیخ رفیق کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شہر کے ممتاز علماء کرام، امام صاحبان اور حفاظ کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا بشیر مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یتیموں کی سرپرستی اور تعلیم و تربیت کرنے والا اللہ کے رسول ﷺ کے بے حد قریب ہوگا۔ اس کے علاوہ دارالفتح یتیم خانہ کے مولانا خالد رشیدی، جمعیتہ علماء سلیمانی چوک کے مولانا آصف شعبان اور امام مسجد یا رسول اللہ، حافظ غفران اشرفی نے بھی خطاب کیا اور اس فلاحی کام کو صدقہ جاریہ قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی و اسلام پارٹی کے بانی اور شیخ رشید خانوادہ کے ترجمان آصف شیخ رشید نے ادارے کے انتظامی امور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس ادارے میں 500 بچیوں کی مکمل کفالت اور دینی و عصری تعلیم کا مربوط نظام قائم کیا جارہا ہے۔یہاں پر ایم جے اسکول کی ایک شاخ شروع کی جائے گی جس میں عصری تعلیم کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ روپے کی خطیر رقم محفوظ ہے، اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے شہر کے صاحبِ حیثیت افراد پر مشتمل ایک نگراں کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔

ادارے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف دینی تعلیم ہی نہیں بلکہ عصری علوم کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ بچیاں جدید دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو سکیں۔ انتظامیہ کے مطابق، مدرسہ میں داخلے کے لیے بچی کی عمر کم از کم 6 سال ہونا لازمی ہے۔ اس ضمن میں مزید معلومات اور داخلہ کے عمل کے لیے آج سے ’کے ڈی آفس‘ (KD Office) سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

آصف شیخ رشید نے شہر کے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مستقبل میں اس ادارے کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔ تقریب کا اختتام شہر کے بزرگ و جید عالم دین مولانا ادریس عقیل ملی کی دعا پر ہوا، انہوں نے ملک و قوم کی سلامتی، امت مسلمہ کی فلاح اور یتیم بچیوں کے روشن مستقبل کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ مرحوم شیخ خلیل کیلئے دعائے مغفرت فرمائی۔ تمام شرکاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔اس تقریب میں موجود علماء کرام و عمائدین و معززینِ شہر کا خانوادہ شیخ شفیع کی جانب سے استقبال کیا گیا وہیں مدرسہ ریاض الجنہ کی جانب سے حافظ جمیل اشاعتی و علماء کرام نے حاجی شیخ عقیل کا استقبال کیا، اسی طرح اس کار خیر کیلئے معززینِ شہر نے آصف شیخ رشید ،شیخ جلیل کا بھی استقبال کیا ۔یہاں تعلیمی اور سیاسی و سماجی شخصیات کثیر تعداد میں موجود تھیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے