لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے کیلئے وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل نے شماریاتی خاکہ پیش کیا



لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے کیلئے وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل نے شماریاتی خاکہ پیش کیا 


 مہاراشٹر کے 12 لوک سبھا حلقوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا؟48 سے بڑھ کر 72 سیٹوں کا امکان 


​صرف 170 بڑے حلقوں کی تقسیم،پورے ملک کی حلقہ بندی نہیں! نئے حلقہ بندی بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرنے حکومت کے حوصلے بلند 




نئی دہلی : 12 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ​پانچ ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ان انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد مرکزی حکمراں جماعت بی جے پی کے حوصلے بلند ہیں۔​اسی وجہ سے، مودی حکومت ایک بار پھر طویل عرصے سے زیر التواء 'حد بندی بل' (Delimitation Bill) پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس دوران، وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل (EAC-PM) نے ملک میں لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے کا ایک اہم شماریاتی خاکہ پیش کیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
​اس نئی تجویز کے مطابق، ملک میں لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد موجودہ 543 سے بڑھا کر 824 کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مہاراشٹر کے 12 بڑے انتخابی حلقوں کو تین تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس سے مہاراشٹر میں لوک سبھا کی نشستوں میں 24 کا اضافہ ہوگا۔

​صرف 170 بڑے حلقوں کی تقسیم؛ پورے ملک کی تنظیم نو نہیں!

​وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکن شمیکا روی اور انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ کے رکن مدیت کپور نے اس حد بندی پر ایک 'ورکنگ پیپر' تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق، لوک سبھا کی نشستوں کو 824 تک پہنچانے کے لیے ملک کے تمام 543 انتخابی حلقوں کی ازسرنو تشکیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، صرف 170 سب سے بڑے لوک سبھا حلقوں کو تقسیم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

​59 حلقوں کی دو حصوں میں تقسیم: 170 میں سے 59 حلقوں کو دو نئی لوک سبھا نشستوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
​111 حلقوں کی تین حصوں میں تقسیم: باقی 111 بڑے حلقوں کو تین تین لوک سبھا حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

​اس نئے ماڈل سے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا نفاذ آسان ہو جائے گا۔ نیز، ایک اندازے کے مطابق 2029 کے عام انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 0.3 سے 2.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یعنی تقریباً 90 لاکھ سے 2.3 کروڑ نئے ووٹر شامل ہو سکتے ہیں۔

​بنگال اور تمل ناڈو کے نتائج سے 'پاور گیم' تبدیل

​اپریل میں لوک سبھا میں اس بل کی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس اور تمل ناڈو کی ڈی ایم کے (DMK) نے سخت مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے یہ بل التواء کا شکار ہو گیا تھا۔ تاہم، تازہ ترین اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے اور تمل ناڈو میں بھی ڈی ایم کے اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی وجہ سے پارلیمنٹ میں بی جے پی کی عددی طاقت مضبوط ہو گئی ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ اگر اپوزیشن بائیکاٹ بھی کرے تو یہ بل آسانی سے منظور ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدیدار نے واضح کیا کہ، "اگر ہمارے پاس مطلوبہ تعداد سے ایک بھی رکن زیادہ ہوا، تو ہم اگلے ہی دن یہ حد بندی بل پارلیمنٹ میں لائیں گے۔"

​حد بندی کا ماڈل: کس ریاست میں کتنی نشستیں بڑھیں گی؟

تفصیلات کے مطابق ​EAC-PM کے ماڈل کے مطابق، جن 59 حلقوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ان میں سے 22 نشستیں صرف کیرالہ اور تمل ناڈو سے ہیں۔ جبکہ جن حلقوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ان میں اتر پردیش کی 17، مہاراشٹر کی 12، بہار کی 10 اور مغربی بنگال کی 10 نشستیں شامل ہیں۔
​تمل ناڈو: 39 سے 59 نشستیں
​کرناٹک: 28 سے 42 نشستیں
​کیرالہ: 20 سے 30 نشستیں
​تلنگانہ: 17 سے 26 نشستیں
​مہاراشٹر: 48 سے 72 نشستیں
​اتر پردیش:80 سے 120 نشستیں
​بہار: 40 سے 60 نشستیں
​راجستھان:25 سے 38 نشستیں
​مدھیہ پردیش: 29 سے 44 نشستیں
​گجرات: 26 سے 39 نشستیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے