بریکنگ نیوز :تین لاکھ اساتذہ کی جانچ کی جائے گی ، ناسک ڈیوژن ٹیچر بھرتی گھوٹالہ میں علیحدہ ایس آئی ٹی کا فیصلہ
ناسک : 24 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناگپور سے منظر عام پر آئے ٹیچر بھرتی گھوٹالے نے سب پورے مہاراشٹر میں سنسنی پھیلا دی ہے ۔ناگپور کے بعد ناسک ڈیوژن میں سب(بڑے پیمانے پر ٹیچر بھرتی گھوٹالے کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ناسک ڈیوژن میں شامل اضلاع میں ناسک، دھولیہ ،جلگاؤں احمد نگر و نندوربار میں غیر قانونی طور پر بھرتی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کے الزام میں درجنوں ایف آئی آر بھی داخل ہوئی ہے کئی بڑے بڑے سرکاری آفیسران و اساتذہ اور اسکول انتظامیہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالے جاچکے ہیں ۔اس ضمن میں آج ناسک کرائم برانچ کی رپورٹ کے مطابق اور ایجوکیشن کمشنر کے حکمنامہ کی بنیاد پر 893 اساتذہ کی منظوری رد کی جاچکی ہے ۔اسی طرح اس سلسلے مزید چونکا دینے والی خبر نے تعلیمی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے ۔تفصیلات کے ناسک ڈیوژن میں ٹیچر بھرتی کے نام پر ایک اندازے کے مطابق 5000 کروڑ کے گھوٹالے کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔نجی ٹی وی چینلز کے مطابق ناسک ڈیوژن کے جلگاؤں ضلع میں 200 کروڑ کی دھوکہ دہی کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو لوٹنے کا کام کیا گیا ۔اس ضمن میں جہاں ایجوکیشن انتظامیہ چوکس وہیں ایس آئی ٹی بھی اپنی کارروائی کررہی ہے ۔آج ملی تفصیلات کے مطابق ناسک ڈیوژن کیلئے علیحدہ سے ایس آئی ٹی تشکیل دی جارہی ہے ۔ناسک ڈیوژن سمیت اطراف کے اضلاع میں ہوئے ٹیچرس بھرتی گھوٹالے کے چلتے اب تین لاکھ اساتذہ کی جانچ کرنے کا فیصلہ حکام نے لیا ہے ۔تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک 2800 اساتذہ کی معلومات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو فراہم نہیں کی گئی ہے جس سے گمان کیا جارہا ہے کہ یہ 2800 اساتذہ کہیں بوگس تو نہیں ہیں؟ اسی لیے حکام نے فیصلہ لیا ہے کہ 2012 سے 2025 تک ناسک ڈیوژن میں بھرتی کئے گئے تمام اساتذہ کی جانچ کی جائے گی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا انکشافات سامنے آتے ہیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com