تبلیغی جماعت کے ساتھیوں پر شدت پسندوں کا حملہ، تین نوجوان شدید زخمی، دھولیہ پولس کی فوری کارروائی
داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام، اروی، للنگ گاؤں کے دس سے زائد افراد گرفتار
دھولیہ :4 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) دھولیہ کے قریب اروی گاؤں میں تبلیغی جماعت کے تین ارکان پر پیر کی شب نامعلوم شرپسندوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طور پر سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا، بعد ازاں حالات کے پیش نظر انہیں نجی اسپتال منتقل کیا گیا، سابق کارپوریٹر امین پٹیل کے مطابق مسجد اسحاق دھولیہ کی جماعت کے تین نوجوان مالیگاؤں سے آٹو رکشہ کے ذریعہ واپس لوٹ رہے تھے جبکہ دو ساتھی موٹر سائیکل پر ان کے پیچھے آرہے تھے ۔ رات تقریباً 12 بجے جب یہ لوگ اروی گاؤں کے قریب پہنچے تو 30 سے 40 افراد پر مشتمل ایک ہجوم جھاڑیوں سے نکل کر ان پر حملہ آور ہو گیا۔ زخمیوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے اور انہوں نے داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر بلا وجہ تشدد کیا۔حملے میں شعیب انصاری کے سر پر گہرازخم آیا، سلیم انصاری کا ہاتھ فریکچر ہو گیا جبکہ سلمان انصاری کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں ۔ زخمیوں کے مطابق انہوں نے حملہ آوروں کو بتایا کہ وہ مذہبی کام سے واپس آ رہے ہیں، لیکن ہجوم نے ان کی ایک نہ سنی اور مار پیٹ جاری رکھی ۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے اروی گاؤں سے کشور مہالے، چین پوار، انیکیت بار سے، وشال با گلے، دیپک کالے، ساحل گولی، پون دھائیگڑے، نریندر کولی اور چین سونا ونے کو حراست میں لے لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اروی ، للینگ گھاٹ اور اودھان گاؤں کے اطراف رات کے وقت مسافروں پر حملوں اور لوٹ مار کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں ۔ پولس نے علاقے میں گشت بڑھانے اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔اس ضمن میں ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولس نے سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com