نقل نویسی روکنا پروفیسر واجد علی کو مہنگا پڑا، چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتار
مسلمانوں کو جہادی بولنے اور بدنام کرنے والی ہندو تنظیموں پر سخت کارروائی کی جائے :مستقیم ڈگنیٹی
دو دن کی پولس تحویل، واجد علی کو جھوٹے لگا الزام بے بنیاد اور جھوٹا ہے :مائناریٹی ڈیفنیس کمیٹی لیگل سیل
مالیگاؤں : 5 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) گزشتہ چار مئی کو ایم ایس جی کالج میں جاری گریجویشن کے امتحان میں بطور ممتحن اپنی خدمات انجام دینے والے پروفیسر واجد علی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے فریادی خاتون طالبہ نے گرفتار کروایا جس پر کیمپ پولس نے بی این ایس کی دفعہ 74 اور 75 کے تحت مقدمہ درج کیا ۔آج ملزم واجد علی کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مائناریٹی ڈیفنیس کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ عارف این شیخ اور ایڈوکیٹ توصیف شیخ نے ملزم کی پیروی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ واجد علی کو ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا جارہا ہے انہوں نے بطور ممتحن اپنی ڈیوٹی انجام دی اور نقل نویسی کرنے والی اس خاتون کو نقل نویسی سے روکا لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ واجد علی نے انکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ۔اس پر عدالت میں پولس کی جانب سے سرکاری وکیل نے سات دن کی پولس تحویل طلب کی لیکن دفاعی وکلاء کی دلیل کے بعد عدالت نے ملزم کو دو دنوں کی پولس تحویل میں رکھے جانے کا حکم دیا ۔اس طرح کی تفصیلات ایڈوکیٹ توصیف و ایڈوکیٹ عارف شیخ نے دی ۔اس موقع پر مائناریٹی ڈیفنیس کمیٹی کے مستقیم ڈگنیٹی نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آصف شیخ کی سرپرستی میں مائناریٹی ڈیفنیس کمیٹی کے لیگل سیل کی خدمات حاصل کی، انہوں نے کہا کہ ایم ایس جی کمانڈوز سلام کالج میں اس طرح کی سازش اس سے قبل بھی کی گئی تھی دھرم پریورتن کے نام پر مسلمانوں کا بدنام کیا گیا اور اب پھر ایک پروفیسر کو سازش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ پولس اور عدالت اپنا کام کرے، چھیڑ چھاڑ کا الزام اپنی جگہ لیکن جس طرح ہندو تنظیمیں دھرم کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے وہ غلط ہے ہم اسکی مذمت کرتے ہیں ۔مستقیم ڈگنیٹی نے پولس انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ شہر کا ماحول خراب کرنے اور افواہ پھیلانے والے کٹر ہندو تنظیموں پر سخت کارروائی کرے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com