مالیگاؤں کارپوریشن میں 'ہنومان چالیسہ' پڑھنے والے ہندوتوا کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج
مالیگاؤں : 28 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے الیکٹرسٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہال میں نماز پڑھے جانے کا ویڈیو سامنے آیا جس پر بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا اور ہندوتوا کارکنوں نے اس پر سخت اعتراض کیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی طرح کی ایک کارروائی پولس نے ہندوتوا کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جنہوں نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے ہال میں نماز پڑھنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ہنومان چالیسہ پڑھا تھا۔
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں نماز پڑھنے کے بعد جہاں پولس نے مقدمہ درج کیا وہیں ہنومان مان چالیسہ پڑھنے پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے،اس ضمن میں ہندوتوا کارکنوں میں شیام دیورے ، میور جین اور 10 سے 12 دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جنہوں نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ہنومان چلیکا پڑھا تھا۔ قلعہ پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ ممبئی پولیس ایکٹ کی دفعہ 135، 37 (1)، 37 (3)، بی این ایس 189 (2)، 190، 224 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے محکمہ بجلی میں 25 فروری کو نماز پڑھی گئی تھی۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔
میونسپل کارپوریشن کے بجلی محکمہ کے انجینئر ابھیجیت پوار کو لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔اس سے میونسپل کارپوریشن کے کام کاج پر سوال اٹھ رہے تھے۔ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا نوٹس لینے کے بعد مزید تفتیش جاری تھی کہ ہندو کارکنوں نے میونسپل کمشنر کے دفتر میں ہنومان چالیسہ کے نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔ لیکن ہندو کارکنوں کے اس کردار کی وجہ سے مالیگاؤں میں مذہبی تنازعہ نازک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ چرچا ہے کہ اس کو سیاسی رنگ دینے کے نام پر امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔ تاہم مالیگاؤں میں پولس فورس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔دونوں ہی گروپ پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اب حالات پر امن ہیں،
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com