ٹیپو سلطان اچھے تھے یا برے، بحث جاری رہیگی لیکن اگر کوئی شیواجی سے بہتر ٹیپو کو بتاتا ہے تو کارروائی ہوگی:فرنویس
اس ملک کا مسلمان محب وطن لیکن ہم ان لوگوں کو نہیں بخشیں گے جو حملہ آوروں کو ہیرو مانتے ہیں
ممبئی : 26 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) شیو جینتی سے کچھ دن پہلے ریاست میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب کانگریس کے ریاستی صدر سپکال نے ٹیپو سلطان کا موازنہ چھترپتی شیواجی مہاراج سے کیا تھا۔ جب بی جے پی نے اس معاملے کو سختی سے اٹھایا تو سپکال نے معافی مانگ لی تھی۔اس ضمن میں وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں گورنر کے خطاب پر اسمبلی میں سخت جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ تاریخ کی کتاب میں مغلوں پر 17 صفحات تھے، جبکہ شیواجی مہاراج پر ایک پیراگراف تھا۔ اس تاریخ نے سکھایا کہ ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے جنگ کی۔ تاہم یہ نہیں سکھایا گیا کہ وہ ملک کے لیے لڑے یا اپنی ریاست کے لیے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نے 75 ہزار ہندوؤں کو قتل کیا اور 33 ہزار نیروں کو ذبح کیا۔یہ چیزیں آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی ہیں،اس طرح کی تنقید بھی فڑنویس نے کی۔انہوں نے ہاؤس میں کہا کہ این سی آر ٹی کی کتاب میں اب چھترپتی شیواجی مہاراج اور مراٹھا سلطنت پر 20 صفحات ہیں۔ فڑنویس نے الزام لگایا کہ اگر یہ تاریخ ہمیں پڑھائی جاتی تو اورنگ زیب آج مسلمانوں میں ہیرو نہ بنتے۔ اس ملک میں مسلمان بھی محب وطن ہیں، مجھے ان پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن ہم ان لوگوں کو نہیں بخشیں گے جو حملہ آوروں کو ہیرو مانتے ہیں۔اس کے علاوہ ٹیپو سلطان اچھے تھے یا برے، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ بحث جاری رہے گی۔ تاہم اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ٹیپو سلطان شیواجی مہاراج جیسا عظیم بادشاہ تھا تو ہم اس کے خلاف ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ٹیپو کو شیواجی مہاراج جیسا اچھا کہا جائے تو ہم اس کے خلاف ہیں، فڑنویس نے یہ بھی واضح کیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com