کمشنر نعمانی پل کی تعمیر میں آنے والی رکاوٹ دور کریں، تحصیلدار حکومتی فیصلے کے مطابق نئے جنم داخلہ جاری کریں



کمشنر نعمانی پل کی تعمیر میں آنے والی رکاوٹ دور کریں، تحصیلدار حکومتی فیصلے کے مطابق نئے جنم داخلہ جاری کریں 


بجلی کمپنی رمضان میں گھریلو و صنعتی صارفین کو پریشان نہ کریں، ایم ایل اے مفتی اسماعیل کا مکتوب 



مالیگاؤں (پریس ریلیز ) مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی کے مطالباتی مکتوبات کو گزشتہ روز ایک وفد نے تحصیل و کمشنر و بجلی محکمے ایگزیکٹو انجینئر سے ملاقات کرکے محضر نامہ پیش کیا اول جس میں اس بات کا ذکر کیا کہ نعمانی پل کی تعمیر میں روکاوٹ بننے والے کھمبوں پول کی منتقلی کا کام ہے اس سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ موسم ندی پر شہریان کی سہولت کے لیے بناۓ جانے والے مولانا عبدالحمید نعمانی رحمہ اللہ پل کی تعمیر میں کھمبوں کی موجودگی کی وجہ سے روکاوٹ پیدا ہورہی ہے اس لیے MLA کی آپ سے درخواست ہے کہ فوری ایکشن لیں اور کھمبوں اور دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر منتقل کریں تاکہ پل کا کام آسانی اور تیزی سے مکمّل ہوسکے. دوسرا تحصیلدار سےحوالے نمبر pkr 22/E. O99118 /25 مارچ 12 سال 2025 نئے جنم داخلہ کی درخواست کے عریضہ کیسز کے فوری آغاز اور جنم داخلہ کی فوری تقسیم، اس مذکورہ مضمون کے حوالے سے آپ حکومتی فیصلے پر 12 مارچ 2025 کو پیدائش و موت کے ریکارڈ کی عدم دستیابی کا داخلہ certificate جاری کرتے ہوئے رجسٹرار نے طریقہ کار کو فالو کرنے کا حکم دیا ہے لیکن مالیگاؤں شہر میں جنم داخلہ کے معاملات پر کارروائی نہیں کی جارہی ہے جو کہ حکومتی فیصلے کی توہین ہے مالیگاؤں شہر میں بہت سارے لوگوں کے پاس جہالت غربت اور دیگر نامعلوم وجوہات کی وجہ سے پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں ہے اور انھیں مختلف سرکاری اسکیموں میں ان وجوہات کی بنا پر مشکلات کا سامنا ہے اگرچہ کہ مالیگاؤں شہر کے مسلم بھائیوں کی اکثریت کو حج کے مقدس سفر پر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے آپ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ حکومتی فیصلے کے مطابق مہاراج سوا ابھیان کے تحت جنم داخلہ درخواست کا اندراج کرکے جنم داخلہ کو جاری کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تیسرامالیگاؤں شہر میں گھریلو بجلی صارفین اور کارخانے فیکٹری کے مختلف مسائل کو حل کرنے بابت ایگزیکٹو انجینئر MPSL مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی لمیٹڈ، شہری شکایت پیش کی جاتی ہے کہ مالیگاؤں کے شہریان بجلی کمپنی MPSL کی طرف سے مسلسل تکلیف کی وجہ سے پریشان ہیں جو ذیل میں تفصیلات کے مطابق ہے بجلی کمپنی رمضان المبارک کے مہینے میں جان بوجھ کر صارفین کو ہراساں کررہی ہیں۔

 لھذا درج ذیل مسئلہ کو فوری طور پر حل کریں، رمضان المبارک کا مقدس مہینے کیساتھ عالم اسلام کا سب سے بڑا تہوار عید آرہی ہے پورے مہینے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں,24/7 سپلائی کو یقینی بنایا جائے، سپلائی اسطرح ہو گھریلو و صنعتی کسی کو بھی کسی بھی وجہ سے سپلائی میں رکاوٹ نہ ہو دوسرا یہ کہ جنکا میٹر کمپنی کے آنے سے پہلے کے ہیں MPSL کے نصب کردہ میٹر کو ہٹایا کر میٹر ٹیسٹنگ کے نام پر پھینکا جارہا ہے اور بجلی صارفین سے بھاری جرمانہ وصول کیاجارہا ہے یہ کمپنی کا ظلم توہین آمیز رویہ ہے یہ کمپنی کی انتظامیہ پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے بغیر کسی وجہ کے صارفین کے بجلی میٹر کو تیزی سے تبدیل کیے جارہے ہیں اور بجلی بل دو سے تین گناہ زیادہ بل مل رہا ہے جسکی وجہ سے کمپنی گاہکوں کیساتھ پیسوں کی چوری کررہی ہیں اس زیادتی کو نظرانداز نہیں کرسکتے، بجلی کے صارفین کو سیاست کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے مالیاتی کمپنی کا نظام شفاف نہیں ہے ایک مخصوص فریق کے دباؤ پر صارفین کو دوسری پارٹی کے نام پر پریشان کیاجارہا ہے بلاوجہ چھاپہ مار کارروائی، اور بجلی کنکشن منقطع کرنا، بجلی کے زیادہ بل وصول کرنا آئندہ یہ معاملات برداشت نہیں کیا جائے گا اور کچھ ہوا تو کمپنی ذمہ دار ہوگی، MPSL کے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی مختلف جگہوں پر ڈی پی انسٹال کریں گی اور ڈی پی ضروری لوڈ بڑھاۓ گی اسکے علاوہ 20 کروڑ روپے خرچ کرکے سہولت فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا دیگر انفراسٹرکچر مٹیرل کنڈکٹرز وغیرہ پر سالانہ 20 کروڑ روپے اپنے حصے کے خرچ کرنے کے بجائے بجلی صارفین کو ریکوری کے نام پر بار بار پریشان کرکے کمپنی اپنی جیبیں بھر رہی ہے کمپنی دو ماہ میں 20 کروڑ روپے خرچ کریں اور تمام سہولیات فراہم کی جائے، 30 اپریل تک کمپنی ایسا نہیں کرتی ہے تو اسے جواب دیا جائے گا بجلی کمپنی کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور سارے معاملات کی ذمہ دار کمپنی رہے گی اور یہ قابلِ مذمت ہیکہ کمپنی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جان بوجھ کر ٹیکس وصول کررہی ہیں عید کے تہوار تک اس کاروائی کو فوری طور پر روکا جائے، بصورت دیگر صارفین کی طرف سے کوئی احتجاج ہوتا ہے تو کمپنی ذمہ دار ہوگی تاہم توقع ہے کہ MPSL کمپنی مذکورہ معاملات پر فوری ایکشن لے گی اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کمپنی دیگر معاملہ کی ذمہ دار ہوگی کمپنی اپنی روش بدلے گی امید کیجاتی ہے. اس وفد میں شفیق رانا، مولانا علیم فلاحی، خالد سکندر، فیضان میگھراج، ماجد گولڈن، راشد سپہ سالار، اعظم بھائی وغیرہ موجود تھے.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے