مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے اور جشن منانے والے فرقہ پرستوں پر سخت کارروائی کی جائے




مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے اور جشن منانے والے فرقہ پرستوں پر سخت کارروائی کی جائے 



ملک کی عوام کو انصاف کیسے ملیگا؟ این آئی اے عدالت کا فیصلہ انصاف کی دھجیاں اڑا دینے والا



آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کا ایڈیشنل کلکٹر کی معرفت مہاراشٹر حکومت سے مطالبہ   




مالیگاؤں : 4 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کو دلا دینے والا ہر  واقعہ 29 ستمبر 2008 کو بھکو چوک پر ہونے والا ہولناک بم دھماکہ تھا جس میں 6 بے گناہ شہری ہلاک اور 100 سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی نے نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اس واقعے کی تحقیقات ملک کی اعلیٰ تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کئی سالوں سے کی تھی۔ تاہم، 31 جولائی، 2025 کو، NIA عدالت نے مضبوط ثبوت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے 'شک' کی بنیاد پر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔یہ فیصلہ انصاف کی دھجیاں اڑانے والا اور مالیگاؤں میں مقتولین کے لواحقین کے لیے ایک تلخ دھچکا ہے۔ اس فیصلے نے عوام کے ذہنوں میں کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔مالیگاؤں کی عوام سوال کررہی ہیں کہ اگر این آئی اے جیسی ایجنسی اتنے سالوں کی تحقیقات کے بعد بھی جرم ثابت نہیں کر سکتی تو ملک کے عام شہری کو انصاف کی امید کس سے کرنی چاہیے؟اس طرح کا مطالبہ لیکر آج ایڈیشنل کلکٹر آفس میں مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی نے ایک علامتی احتجاج کرتے ہوئے ایڈیشنل کلکٹر کی معرفت سرکار سے میمورنڈم کے ذریعے مطالبہ کیا ۔یہاں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں تختیاں لیکر احتجاج درج کیا اور سرکار سے انصاف کا مطالبہ کیا ۔اس ضمن میں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے کنوینر آصف شیخ اور مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہیمنت کرکرے کی تحقیقات کے مطابق ملک میں بھگوا دہشت گردی کا چہرہ بینقاب ہوا ہے ۔مالیگاؤں میں بے قصور لوگ مارے گئے اور سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔اگر ان بھگوا دہشت گردوں کو این آئی اے کی خصوصی عدالت عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیتی ہے تو پھر دھماکہ کس نے کیا؟ حکومت وضاحت کرے ۔مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی مالیگاؤں کی جانب سے، ہم حکومت سے واضح اور پختہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے خلاف 8 دن کے اندر ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے۔


آصف شیخ و مستقیم ڈگنیٹی نے میمورنڈم میں یہ بھی لکھا ہے کہ مالیگاؤں کے لوگوں کو مناسب انصاف ملنے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو قانونی جنگ دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔اسی طرح اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے کہ جن ملزمین کو این آئی اے عدالت نے بری کیا ہے انہیں ہائی کورٹ میں مضبوط ثبوت پیش کرتے ہوئے سخت سزا دی جائے۔

اس کے علاوہ عدالتی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے قریب ڈی جے بجانے اور گانا گانے اور خوشی منانے سے پورے شہر کا سماجی ماحول داغدار ہوگیا ہے۔ یہ حرکت مالیگاؤں میں ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔ دھماکے میں مرنے والے اور زخمی ہونے والے سبھی مالیگاؤں کے رہنے والے تھے اور اس طرح کی حرکت نے ان کے اہل خانہ کے جذبات کو پوری طرح سے مجروح کیا ہے۔ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی سماج دشمن حرکتیں کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ہمارا پختہ یقین ہے کہ ملزم کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو - وہ صرف ایک ملزم ہے، مذہب کو معاملے میں نہیں لانا چاہیے۔ دہشت گرد کو دہشت گرد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔یہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی مالیگاؤں کی جانب سے ایک عاجزانہ لیکن پختہ مطالبہ ہے کہ حکومت اس انتہائی سنگین اور حساس معاملے میں فوری فیصلہ اور کارروائی کرے۔آپ سے مثبت، فوری اور موثر اقدام کی توقع ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے