آدھی رات کو وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور ، نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو کی حمایت


آدھی رات کو وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور ،  نتیش کمار اور چندرابابو نائیڈو کی حمایت 



ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے شدید احتجاج اور اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود وقف بل کی حمایت میں 288 ووٹ ، اپوزیشن نے اس قانون کو غیر آئینی بتایا 



نئی دہلی: 3اپریل (بیباک نیوز اپڈیٹ) وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں بدھ 2 اپریل کو پیش کیا گیا اور گرما گرم بحث کے چلتے 3اپریل جمعرات کی رات منظور کر لیا گیا۔ اس بل کے حق میں 288 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں 232 ووٹ ڈالے گئے۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترمیمات کو صوتی ووٹ کے ذریعہ مسترد کر دیا گیا۔یہ بل 12 گھنٹوں کے طویل مباحث کے بعد منظور کرلیا گیا۔ بحث کے دوران  حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اپنے موقف کا بھرپور دفاع کیا۔ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں جنتا دل یو (جے ڈی یو) اور تلگودیشم پارٹی نے بھی اس بل کی حمایت میں حکومت کا ساتھ دیا جس سے اس بل کی منظوری میں حکومت کو مزید تقویت ملی۔اپوزیشن نے مختلف وجوہات کی بناء پر بل کی مخالفت کی لیکن حکومت نے اس بل کو عوامی فلاح کے لیے ضروری قرار دیا۔ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے شدید احتجاج اور اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان یہ بل آدھی رات کو منظور کرلیا گیا۔


اسپیکر اوم برلا نے بل کو منظور کرنے کے لیے صوتی ووٹ کا مطالبہ کیا اور جو ارکان اس کے حق میں تھے ان سے کہا کہ "ہاں" کہیں۔ حزب اختلاف نے ڈویژن ووٹ پر اصرار کیا، جہاں ممبران کو فراہم کردہ بٹنوں کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنے اور دستی طور پر اپنا ووٹ جمع کرانے کا اختیار تھا۔ اوم برلا نے بل کے حق میں 288 ووٹ اور مخالفت میں 232 ووٹوں کے طور پر نتائج کا اعلان کیا۔

اس سے پہلے کئی گھنٹوں تک پارلیمنٹ میں لمبی بحث جاری رہی۔ اپوزیشن کی جانب سے وقف بل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس معاملے پر حکمران بی جے پی کی زیرِ قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور اپوزیشن کی انڈیا اتحاد کے بیچ اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اخیر میں حتمی فیصلہ ایوان میں اکثریتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا۔

اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بل پر بحث کے دوران اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کی تذلیل کرنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں گاندھی کی طرح وقف بل کو پھاڑ دوں گا۔ اویسی نے کہا، 'اگر آپ تاریخ پڑھیں تو جب افریقہ میں مہاتما گاندھی کے سامنے ایسا قانون پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اسے نہیں مانتا۔ انہوں نے اس قانون کو پھاڑ دیا تو میں گاندھی کی طرح اس قانون کو پھاڑ دوں گا۔ یہ غیر آئینی ہے۔جے پی سی سربراہ جگدمبیکا پال نے اویسی کو وقف بل پر گھیرا۔ اویسی کے بولنے کے بعد وقف بل پر جے پی سی سربراہ اور رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے بحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل کافی غور و خوض کے بعد لایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اویسی نے وقف بل کو پھاڑ کر ایک غیر آئینی کام کیا۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے