آج دین کے شعبے میں امت کی رہنمائی و امامت کیلئے مفتیان کرام، علماء و حفاظ کی اشد ضرورت ہے : مفتی اسمٰعیل قاسمی



آج دین کے شعبے میں امت کی رہنمائی و امامت کیلئے مفتیان کرام، علماء و حفاظ کی اشد ضرورت ہے : مفتی اسمٰعیل قاسمی 



جمعیت علماء کے زیر اہتمام مدارس دینیہ اور مکاتب قرآنیہ کے فارغ التحصیل حفاظ و علماء کرام کا اعزاز و اکرام، تربیتی تہنیتی اصلاحی نشست کا انعقاد، سات سو علماء و حفاظ کی شرکت 



ایک نشست میں قرآن پاک سنانے والے بچوں کو جمعیت علماء خصوصی انعامات دے کر انکا اعزاز و اکرام کریگی 



 مالیگاؤں : 20 جنوری (پریس ریلیز ) جمعیت علماء مدنی روڈ کے زیر اہتمام سالہاۓ گزشتہ اس سال بھی آج 19 جنوری بروز اتوار کو غربید مسجد بعد نماز مغرب غربید مسجد چونا بھٹی میں شہر عزیز مالیگاؤں کے مدارس دینیہ سے اس سال فارغ ہونے والے علماء حفاظ سند فراغت حاصل کررہے ہیں ان تمام علماء و حفاظ کرام کے اعزاز و اکرام میں ایک تہنیتی تربیتی و اصلاحی مجلس کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر جمعیت علماء مالیگاؤں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی اور اسی طرح آج کی اس بامقصد و دینی بابرکت مجلس کے اغراض و مقاصد مولانا عمران اسجد ندوی نے پیش کیے، بعدازاں مقرر خصوصی طور پر صدر جمعیت علماء مفتی اسمٰعیل قاسمی مدارس دینیہ کے فضلاء اور حفاظ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا باکمال لوگوں کی قدر کرتی ہیں اور آج امت مسلمہ و سماج کیلئے آج آپ علماء و حفاظ لوگوں کی اشد ضرورت ہے آپکا زمانہ طالب علمی سے نکل کر عملی میدان میں اتریں ہو تو آپکو ہزار اندیشوں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا کچھ فارغین مفتی بننا چاہتے ہیں یا تکمیل ادب کے علوم کی سند حاصل کرنے چاہتے ہیں اور کچھ کے درمیان کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوگی، کسی مسجد میں امامت اور کسی مدرسہ و مکتب میں پڑھانے کا موقع ملے تو پڑھاۓ گے ورنہ بنا منزل کے سفر گزرتا رہتا ہے مزید مفتی اسمٰعیل قاسمی نے تعلیم اور مقصد کے حوالے سے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ بجنور کے ایک گاؤں میں صرف 70 گھر ہیں اور 47 بچے آے پی ایس کرکے ملک کے طول و ارض میں کلکٹر کمشنر تحصیل پرانت کی خدمات انجام دیں رہے ہیں اس گاؤں میں ایک دو تین افراد کے بعد گاؤں میں لوگوں نے انکو آئیڈیل بنایا اور اپنا ایک ٹارگٹ نشانہ بناکرکے آج 47 لوگ ہوگئے اپنے مالیگاؤں میں بھی دیکھوں گے ڈاکٹر کا بچہ ڈاکٹر انجینئر وکیل ٹیچروں کے بچے اپنے والد کے نقش قدم پر انجینئر وکیل ٹیچر بن رہے ہیں آپ حافظ بنیں ہیں تو مثالی حافظ بنے ایک نشست میں مکمّل قرآن مجید سنانے والے بنے مَیں اس مجلس میں جتنے بچے ایک نشست میں قرآن پاک سنائے ہیں ایسے تمام حفاظ اپنے تعلیم گاہ سے تصدیق لےکرکے آۓ جمعیت علماء مدنی روڈ کی طرف سے انھیں انعامات دیئے جائیں گے ہم میں سے ہر ایک طالب علم تکمیل علم پر محاسبہ کریں ہم نے کیا پایا اور اب ہمارے اندر کیا صلاحیت موجود ہے ہم بہتر درس تدریس و امامت کرسکتے ہیں جائزہ لیں، اسی طرح جو بچے حفظ قرآن مکمّل کیے ہیں اب وہ عالمیت کیلئے اگلی کلاسوں میں جاۓ گے اپنے اندر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے دنیا قابل لوگوں کا استقبال کرتی ہے کسی فن میں مہارت رکھتے ہیں آج یہ چیز ناپید ہوتی جا رہی ہے یہ علم منطق یا علم فلسفے تفسیر حدیث کے امام ہیں لیکن مشکل نہیں ہے تبلیغی جماعت کے اندر کوئی چلہ چار ماہ کیلئے جماعت میں جاتا ہے اسکے اندر تبدیلی آتی ہے سات سے دس سال مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہمارے اندر انقلاب پیدا ہونا چاہیے نمازوں کی پابندی ہونا چاہیے جو آج کمی واقع ہورہی ہے میری والدہ کہتی تھی دس سال جامعات و مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہمیں اللہ تعالیٰ کا ولی اور مستجاب الدعوات ہونا چاہیے لیکن ایسا دکھتا نہیں ہے صلاحیتوں والا باکمال بننا ہے دنیا آنکھوں پر بیٹھاۓ گے ورنہ ہم انسانوں کی بھیڑ میں گم ہوجائے گے یہ سب علمی اعتبار سے کہی گئی بات ہے آج سماج و معاشرے کو ہماری ضرورت ہے آج امت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی ہے اسکی رہنمائی دستگیری کرنے والا، قوم و ملت پر اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنے والے ایسے لوگ ملتے نہیں ہے ہر آدمی اپنے لیے جی رہا ہے جمعیت علماء اسی مقصد کے حصول کیلئے ان جیسی تربیتی تہنیتی اصلاحی نشستوں کا اہتمام کرتے آرہی ہے آپ کو جمعیت علماء اور ان جیسی تنظیموں سے وابستہ ہونا چاہیے، آپکو ایک پلیٹ فارم ملے گا اس جماعت کا سو سالہ تجربہ ہے اپنا ایک مقام ہے اس جڑکر کام کرنے میں آپکو آسانی رہے گی جو شاخ درخت سے جڑی رہتی ہیں وہ ہری بھری رہتی ہیں اور جو کٹ جاتی ہے اسکی اہمیت نہیں رہتی ہے آپکی فراغت کے بعد اپنی ایک اکائی و پہچان ہے الا یہ کہ آپ اکیلے کوئی نام بنالیں، لیکن اتحاد اتفاق اجتماعیت مل گئی تو آپ کو آگے بڑھنے کیلئے معاون و مددگار بنے گی اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت دیکھو گے ید اللہ علی الجماعت اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہوتی ہیں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو نبوت دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کا انتخاب فرمایا، اسی جماعت کے بارے میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا انکو میرے بعد تنقید کا نشانہ مت بنانا، جو ان سے محبت کریں گے اس لیے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے گا اسکو مجھ سے دشمنی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے انکی رفاقت و معیت کیلئے انتخاب کیا تھا اور حافظ حجر عسقلانی کہتے ہیں صرف 18 ہزار صحابہ کرام کی قبریں جزیرہ عرب میں شمار ہے باقی ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام اللہ و اسکے رسول کا دین لےکرکے پوری دنیا میں پھیلانے کا کام کیا اس لیے آپ اجتماعیت کے ساتھ کام کریں اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں کامیاب و کامران کریں گے ان شاءاللہ، اس مجلس میں مولانا انیس الرحمن قاسمی، حاجی محمد مکی، مولانا سراج قاسمی، مفتی نعیم اختر، مولانا سراج ندوی، قاری انیس فہمی، مولانا شکیل قاسمی، مولانا شفیق فلاحی، مولانا امتیاز فلاحی، عبدالرحمن پیارے، اسلم مقادم، طاہر حسین، حافظ فیضان، عزیزالرحمن نوفل، قاری زبیر عثمانی، وغیرہ جمعیت کے ارکان و خدام سمیت مدارس کے سات سو علماء و حفاظ موجود تھے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے