قریش برادری کے نوجوانوں پر گئو رکشکوں کی مآب لنچنگ غیر قانونی، قانون سے بڑا کوئی نہیں
قریش برادری مخبروں سے ہوشیار رہیں،پولس انتظامیہ قانون ہاتھ میں لینے والوں پر کارروائی کرے
شہر میں فرقہ پرستی دوبارہ بڑھ رہی ہیں، ظلم کے خلاف کون نمائندگی کریگا؟ آصف شیخ کا مآب لنچنگ پر اظہار
مالیگاؤں : 24 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) گزشتہ روز گئو ونش کے شبہ میں قریش برادری کے نوجوانوں کے ساتھ مآب لنچنگ کا شرمناک واقعہ پیش آیا اور وزیر تعلیم دادا بھسے بیٹے اوشکار بھسے پر حملہ کرنے کے الزام میں قریش برادری کے ہی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔انہیں عوام نے شدید زد و کوب کیا ۔یہی پر معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اوشکار بھسے مارکیٹ کمیٹی میں جاکر برسہا برس سے جاری لائسنس یافتہ جانوروں کی تجارت پر بھی روک لگانے کی کوشش کی جارہی ہیں ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس پورے معاملے میں کون نمائندگی کریگا؟ اس طرح کا سوال آصف شیخ رشید نے بلند کیا ہے ۔موصوف نے کہا کہ قریش برادری قانون کے مطابق اپنا کاروبار کرتی ہیں ۔لیکن انہیں مزید پابندی کے ساتھ قانون کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ قریش برادری کی گاڑیوں کی خبر فرقہ پرستوں کو کیسے لگ رہی ہیں کہ مال سٹانہ روڈ سے آرہا ہے یا چالیس گاؤں روڈ یا منماڑ و چاندوڑ روڈ سے آرہا ہے، اس کی خبر کون دے رہا ہے جو گاڑیاں پکڑی جارہی ہیں ۔آصف شیخ نے کہا کہ قریش برادری کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔انہیں مخبروں سے ہوشیار رہنا چاہیے ۔شہر میں سب سے بڑا خبری ورلی روڈ پر رہتا ہے اور ایک دوسرا خبری مومن پورہ میں اور تیسرا خبری راجہ نگر میں رہتا ہے جو فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر قریشیوں کے مال پکڑا رہا ہے اور مسلم نوجوانوں کیساتھ مآب لنچنگ ہورہی ہیں ۔اس موقع پر آصف شیخ نے پولس انتظامیہ سے اپیل کی ہے ان خبریوں اور گئو رکشکوں کی کال ریکارڈنگ چیک کی جائے ۔پولس قانون ہاتھ میں لینے والوں پر کارروائی کرے ۔گئو رکشکوں کو کس نے ذمہ داری ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لیکر جانوروں کی گاڑیاں پکڑے، مسلم نوجوانوں کیساتھ مآب لنچنگ کرے ۔اس معاملے میں کارروائی کی جائے ۔آصف شیخ رشید نے مزید کہا کہ قانون سے بڑا کوئی نہیں چاہے پھر وہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کا بیٹا ہو یا منتری کا یا ایم ایل اے ، کوئی قانون سے بڑا نہیں ہے ۔قانون سب سے بڑا ہے ۔اس لئے پولس قانون کی پاسداری کرے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com