ریٹائرڈ چیف جسٹس چندر چوڑ نے پیلس آف ورشپ ایکٹ 1991 میں سروے کرانے کی اجازت دے کر ملک میں بابری مسجد جیسا مسئلہ کھڑا کرنے کی مذموم کوشش کی ہے
بنگلہ دیش میں جو صورتحال ہے اگر اسکا ری ایکشن ہندوستان میں ہورہا ہے تو اقتدار والوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے
ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جارہا ہے: مفتی اسمٰعیل قاسمی
مالیگاؤں) پریس ریلیز ) مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی دارالخیر رابطہ آفس میں میڈیا کے نمائندوں نے سوال کیا ملک میں مسجدوں و درگاہوں کے سروے اور موجودہ حالات پر آپ کا کیا موقف ہے مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں بابری مسجد کا مسئلہ کھڑا ہوا تھا اور ملک کی آزادی سے 1992 میں مسجد شہید ہونے تک یہ سلسلہ چلتا رہا، اسوقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 بنایا تھا جس میں یہ تھا کہ بابری مسجد چھوڑ کرکے ملک میں جتنی عبادت گاہیں ہیں مسجد مندر چرچ گردوارہ عبادت گاہیں ہو اسکی جو حیثیت ہیں وہ باقی رہے گی کسی بھی عبادت گاہ کو ہٹایا بدلہ نہیں جاۓ گا یہی پیلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 ہے لیکن سپریم کورٹ میں کچھ لوگوں نے بابری مسجد کے علاوہ دیگر مسجدوں کو لے کرکے پیٹیشن داخل کی ہیں اور سپریم کورٹ ریٹائرڈ چیف جسٹس چندر چور نے جو فیصلہ دیا اس فیصلے نے ایک بہت بڑے مسئلے کا دروازہ کھول دیا انھوں نے کہا کہ پیلس آف ورشپ ایکٹ 1991 کے تحت عبادت گاہوں کی حیثیت بدلی نہیں جاۓ گی لیکن سروے کروانے میں کوئی دقت نہیں ہے اس لیے کہ ورشپ ایکٹ 1991 میں سروے کرانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے اسی کو بنیاد بنا کرکے آج ملک میں تقریباً آج سنبھل کی شاہی جامع مسجد ہو یا بدایوں کی جامع مسجد ہو یا خواجہ اجمیری چشتی کی اجمیر درگاہ یااور دسیوں مقامات پر ان لوگوں نے خاص طور مسجدوں درگاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور سروے کیلئے پیٹیشن دائر کی جارہی ہے جبکہ سنبھل شاہی جامع مسجد 772 ہجری میں بنائی گئی تھی آج 1446 ہجری چل رہا ہے یعنی آج 700 سو سال پرانی مسجد کا سروے کرانے کی بات چل رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں پہلے مندر تھا اسطرح کی جو صورتحال ملک میں ہے وہ بظاہر ملک میں خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری کو بنادیا ہے مزید انھیں مایوسی کے دلدل میں ڈالنے کی کوشش ہے جمعیت علماء ہند اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں مقدمات لڑ رہی ہے لیکن پورے ملک کیلئے بے چینی کی بات ہے اور پوری دنیا میں یہ میسیج جا رہا ہے کہ ہندوستان میں مسجدوں و درگاہوں کو سروے کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے اور مستقبل میں اندیشہ یہ ہے کہ بابری مسجد کی طرح ان پر بھی حالات آئے گے اور ملک میں بابری مسجد کی طرح صورتحال پیدا ہوگی مَیں ایک ذمہ دار کی حیثیت سے اسکی مذمت کرتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب باقی رہے اور اسکے لیے برادران وطن کو بھی یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے آج اگر تم اقتدار میں ہو اس طرح کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے تو یہ حالات آپ پر بھی اور آپکی عبادت گاہوں پر بھی آسکتے ہیں ایک سوال پر بنگلہ دیش میں بھی ہورہا ہے مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا ہم لوگ مسلمان ہیں اور مذہب اسلام کامل و مکمّل دین ہے قیامت تک جس طرح کے حالات پیش آتے رہے گے ان حالات پہ ہمیں گائیڈ لائن رہنمائی کی گئی ہے اگر بنگلہ دیش میں مندر پر حملہ اور ہندوؤں کو تکلیف دی جارہی ہے تو مذہب اسلام اسکی اجازت نہیں دیتا ہیں قرآن کی تعلیم ہے لا اقراء فی الدین دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں کوئی شخص ہندو سناتن مذہب پر زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسکو آزادی ہے قرآن مجید میں ہے لکم دینیکم ولی دین تمہارے لئے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین ہے لیکن ملک میں جو صورتحال ہے کہ لو جہاد کے نام پر یا دھرم پریورتن کے نام پر کہو یہ سب ہندوستان میں صورتحال آج ہے لیکن ہمارا مذہب اسلام اسکی اجازت نہیں دیتا ہیں کہ کسی کو زور زبردستی مسلمان بنایا جائے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا کہ اگر دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ نظام نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ایکدوسرے کو کسی نہ کسی حالات کی وجہ سے روکتا ہے اگر یہ حد بندی نہیں ہوتی تو کوئی مسجد کو مسمار توڑتا کوئی مندر مسمار کرتا چرچ گردوارہ کو مسمار کرتا تو اس دنیا کے بنانے والے رب نے نہیں چاہا کہ کسی کی عبادت گاہ کو مسمار کیا جائے اگر یہ بنگلہ دیش میں ہوتا ہے اور ہندوستان میں یہ رد عمل ری ایکشن ہورہا ہے اسکے رہ ایکشن میں ہے تو اسکی بھی مذہب اسلام اجازت نہیں دیتا ہیں اس لیے بنگلہ دیش میں جو ہورہا ہے چاہے وہ مسلمانوں کی طرف سے ہورہا ہو ہم اسکی بھی مذمت کرتے ہیں اور اس بات کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف جاکرکے کوئی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں کو مسمار کریں یا دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر زور زبردستی کریں.
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com