تلواڑہ ڈیم سے پانی کی پائپ لائن سماجوادی کی دین ہے ، موجودہ ایم ایل اے جھوٹے ہیں ، میڈیا کے روبرو بات کریں
سماج وادی وفد تلواڑہ ڈیم پہنچا، مفتی اسماعیل کو مستقیم ڈگنیٹی کا چیلنج
مالیگاؤں : 6 نومبر (پریس ریلیز) آج سہ پہر 3 بجے سماج وادی پارٹی کے یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی اپنے وفد کے ساتھ تلواڑہ ڈیم پہنچے۔تلواڑہ ڈیم پانی معاملہ پر انہوں نے میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ" 1 ستمبر 2022 کو تلواڑہ ڈیم پانی کیلئے اور نئی پائپ لائن منظور ہوئی تھی، اُس وقت کے کمشنر بھال چندر گوساوی اور واٹر سپلائی محکمہ کے ساتھ سماج وادی پارٹی نے میٹنگ لی تھی اور مطالباتی عریضہ بناوایا تھا۔" موصوف نے مطالباتی عریضے کی کاپی میڈیا نمائندگان کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ" یہ مطالباتی عریضہ نگر وکاس کے نام سے پردھان سچیو کو سماج وادی نے بھیجوایا تھا۔لیکن اُس عریضے پر کام نہیں ہوا۔اُس کے بعد دوسرا مطالباتی عریضہ بنوا کر متعلقہ محکموں میں سماج وادی پارٹی نے بھیجا تھا۔اِن مطالباتی عریضوں میں سماج وادی پارٹی نے بتایا تھا کہ 1975 سے زیرِ زمین نصب کی گئی پائپ لائن کو تقریبا 50 سال ہو چکے ہیں"۔یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے بتایا کہ"مطالبات کا مقصد یہ تھا کہ مرکزی حکومت سے دوسری مرتبہ منظور ہوئی اٹل امرت اسکیم منظور مالیگاؤں سینٹرل کیلئے منظور کی جائے۔" مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ"مالیگاؤں شہر میں یہ بات سے کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دابھاڑی دیہات کو پانی دینے کے واقعے سے لیکر سے اب تک تلواڑہ ڈیم پانی کا تحفظ سماج وادی پارٹی نے ہی کیا ہے" موصوف نے کہا کہ غیر قانونی یا بوگس طریقے سے نصب کی گئی پائپ لائن سماج وادی پارٹی نے نکلوائی دی تھی۔انہوں نے کہا کہ مطالباتی خطوط جن کی تعداد لگ بھگ 60 سے زائد ہے،سماج وادی پارٹی نے دیا ہے۔ہم اس لیے پائپ لائن پر زرو دے رہے تھے کہ فرقہ پرست تلواڑہ ڈیم کے پانی پر نیت خراب چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ تلواڑہ ڈیم پانی کیلئے کارپوریشن کمشنر اور محکمہ آب رسانی سے لیکر ریاستی وزیر برائے آب و رسانی گلاب راؤ پاٹل تک سماج وادی پارٹی نے نمائندگی اور خط و کتابت کی ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گلاب راؤ پاٹل اور ان کے متعلقہ وزیر جینت پاٹل نے ہمارا مطالبہ منظور کیا تھا۔
ہم اس لیے مطالبہ کر رہے تھے کہ 15 ایم ایل ڈی پانی تلواڑہ سے اور 70 ایم ایل ڈی پانی گرنا ڈیم سے مالیگاؤں سینٹرل کیلئے لیا جاتا ہے۔جس کے سبب مالیگاؤں شہریان 5 فیصد اضافی پانی پٹی کا عتاب جھیل رہے ہیں۔انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ نہال احمد جب مئیر ہوئے تو تلواڑہ ڈیم کی توسیع کی گئی۔MCFT 43 سے MCFT 87 کیا گیا لیکن اِس کا فائدہ مالیگاؤں شہریان کو نہیں دیا گیا وجہ اقتدار کی لالچ تھی۔مالیگاؤں سینٹرل کے ساکنان کا حق بیچ ڈالا گیا ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے موجودہ ایم ایل اے مفتی اسماعیل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ"سماج وادی نے دابھاڑی کو پانی دینے کی مخالفت اور تلواڑہ ڈیم کی حفاظت کیلئے مسلسل کام کیا ہے۔65 خطوط کے ساتھ سماج وادی پارٹی نے کام کیا ہے۔موجودہ جھوٹے ایم ایل اے میرے میڈیا کے روبرو بات کریں کہ انہوں نے مالیگاؤں شہریان کیلئے پائپ لائن منظوری اور تلواڑہ ڈیم کے پانی کیلئے کیا کیا ہے۔
" اِس موقع پر سماجوادی پارٹی کے وفد میں اطہر حسین اشرفی،عبدالباقی راشن والا،خورشید کابل وغیر موجود تھے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ "ہماری کوشش آج بھی جاری ہیکہ گرنا ڈیم سے ملنے والے پانی کے مساوی پانی تلواڑہ ڈیم سے مالیگاؤں شہریان کو ملے۔" آج کی پریس کانفرنس میں زرائع و ابلاغ کے نمائندے بھی تلواڑہ ڈیم پہنچے تھے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com