مہاراشٹر دوسری سب سے بڑھی مقروض ریاست، 8 لاکھ 30 ہزار کروڑ سے زائد قرض کا بوجھ
چناؤ کے پیش نظر عوام کو خوش کرنے کیلئے کئی اسکیموں اور ترقیاتی کاموں کیلئے مزید قرض لینے کی اسمبلی میں تجویز
ممبئی :30 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) چونکہ یہ انتخابی سال ہے، اس لیے بجٹ میں مختلف سماجی طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اعلان کردہ اسکیموں پر تقریباً ایک لاکھ کروڑ خرچ کیے جائیں گے، دوسری طرف اس سال مزید قرض لینا پڑے گا۔ حکومت نے بجٹ دستاویزات میں بھی یہی اعتراف کیا ہے۔
جب کہ حکومت پہلے ہی سات لاکھ کروڑ سے زیادہ کے قرض کے بوجھ میں دبی ہوئی ہے، حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ مالی سال (2024-25) میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔ اس سال 1 لاکھ 30 ہزار کروڑ کا قرض لینے کا منصوبہ ہے۔ ریاست پر 2023-24 کے آخر میں 7 لاکھ 11 ہزار کروڑ کا قرض تھا۔ ہر سال 60 سے 70 ہزار کروڑ کا قرض لیا جاتا ہے۔اس سال 1 لاکھ 30 ہزار کروڑ کا قرض لیا جائے گا۔ چونکہ یہ انتخابی سال ہے، حکومت نے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی مختلف اسکیموں کا اعلان کیا ہے۔ ان اعلانات کو پورا کرنے کے لیے فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ترقیاتی کاموں پر اخراجات میں کمی کی گئی ہے جبکہ مختلف سماجی طبقات کو خوش کرنے کے لیے فنڈز خرچ کیے جائیں گے۔ اس پس منظر میں اس سال اضافی قرض لیکر انفراسٹرکچر کی سہولیات کے لیے فنڈز دستیاب کرائے جائیں گے۔
ترقیاتی کاموں کے لیے رواں سال مزید قرض
● تمل ناڈو کے بعد مہاراشٹر ملک کی دوسری سب سے زیادہ مقروض ریاست ہے۔ تمل ناڈو اس سال 1 لاکھ 55 ہزار کروڑ اور مہاراشٹر 1 لاکھ 30 ہزار کروڑ کا قرض اٹھانے جا رہا ہے۔
● ریاست کے ترقیاتی کاموں کے لیے قرض کی ضرورت ہے۔حکومت نے مالیاتی پالیسی دستاویزات میں بتایا ہے کہ انفراسٹرکچر کے ترقیاتی کاموں کے لیے اس سال مزید قرضے لیے جائیں گے۔ سال 2024-25 میں کل 1 لاکھ، 30 ہزار، 470 کروڑ کا قرض لیا جائے گا۔
● اس قرض کا 79 فیصد سستی شرح سود پر اوپن مارکیٹ سے اٹھایا جائے گا۔قرضوں کے بوجھ میں اضافے کے باوجود محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ریاست کا قرض مجموعی ریاستی آمدنی سے موازنہ ہے۔
● ریاست پر اس وقت 7 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا قرض ہے۔اگر اس سال 1 لاکھ 30 ہزار کروڑ کا قرض لیا جائے تو مالی سال کے اختتام تک قرض کا بوجھ 8 لاکھ 30 ہزار کروڑ سے زیادہ ہوجائے گا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com