کانگریس کے دور میں پندرہ ہزار فسادات ہوئے، کانگریس مسلمانوں کی ہمدرد نہیں، دلتوں سے زیادہ خراب حالات مسلمانوں کے کانگریس نے کیا ہے لیکن


کانگریس کے دور میں پندرہ ہزار فسادات ہوئے، کانگریس مسلمانوں کی ہمدرد نہیں، دلتوں سے زیادہ خراب حالات مسلمانوں کے کانگریس نے کیا ہے لیکن 


شریعت اور شہریت کو بچانا ہے تو کانگریس امیدوار شوبھا تائی بچھاؤ کو کامیاب کریں :رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل 


آج حالات کے پیش نظر کانگریس پارٹی کو ووٹ دینا ہماری مجبوری اور ضروت بن گئی ہے کانگریس اور بی جے پی ایک سکے کے دو رخ ہیں 





مالیگاؤں 16 مئی ( بیباک نیوز اپڈیٹ / پریس ریلیز ) بروز بدھ 15 مئی کو مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی کی صدارت میں دھولیہ مالیگاؤں حلقہ پارلیمنٹ کا پہلا انتخابی جلسہ فتح میدان میں منعقد ہوا ۔MLA مفتی اسمٰعیل قاسمی نے اپنا صدارتی خطاب عربی کے اس معقولہ سے کیا جس کا ترجمہ ہے کہ کوشش کرنا ہمارا کام ہے اور کام کی تکمیل اللہ رب العزت کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ مفتی اسمٰعیل قاسمی نےکہا کہ آج ملک میں پارلیمنٹ الیکشن میں امیدواری کرنے کا ہر ہندوستانی کو حق ہے اس ملک کا ہر شہری گرام پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ کا الیکشن لڑ سکتا ہے آج کے حالات ایسے ہیں ان حالات میں مسلم امیدوار ان علاقوں سے دیے جاتے  جہاں سات لاکھ مسلم ووٹ ہیں جہاں چھ لاکھ اور ساڑھے پانچ لاکھ مسلم ووٹرس ہیں وہاں سے مسلم امیدوار چن کر آسکتا تھا ملک آزاد ہوا کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اس ملک میں جس طرح کے حالات گزرے وہ ہمارے آباواجداد کو پتہ ہے اس ملک میں فسادات کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا اور یہ فسادات صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے کیا جاتا تھا، جان و مال عزت و آبرو کا نقصان صرف مسلمانوں کا ہوتا تھا مسلمانوں کی تباہی و بربادی ہوتی تھی۔مفتی اسمٰعیل نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں 15 ہزار سے زائد فسادات ہوئے یہ وہ زمانہ تھا جب کانگریس پارٹی کی حکومت تھی سچر کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی حالت دلتوں سے زیادہ بدتر ہے اور یہ نوبت ہماری کسی پارٹی نے بنائی ہے تو وہ کانگریس پارٹی ہے آج پربھنی جیسا علاقہ جہاں چھ لاکھ مسلم ووٹ ہیں ممبئی جیسے علاقوں میں ہمارا یہ دھولیہ مالیگاؤں حلقہ جہاں ساڑھے پانچ لاکھ مسلم ووٹ ہیں مسلمان کو امیدواری نہیں دی گئی. عمرہ پر جانے سے پہلے مَیں نے یہ وضاحت کی تھی کہ اگر مہا وکاس اگھاڑی نے مجھے امیدواری دی تو پارلیمنٹ الیکشن کے لیے سوچیں گے آج کانگریس، راشٹروادی، سماجوادی، شوسینا ادھو کسی نے بھی مسلم امیدوار کو پورے مہاراشٹر میں ٹکٹ نہیں دیا ہے سوچنے کا مقام ہے ۔
ہمارے سامنے دو مصیبت ہے ایک بڑی مصیبت ہے دوسری چھوٹی مصیبت ہے ہم مسلمان ہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب تم دو مصیبتوں میں گرفتار ہوجاؤ اور تیسرا کوئی راستہ نہیں ہو تو ہلکی مصیبت اختیار کر لیں، کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں ایک سّکے کے دو رُخ ہے ایک کھلا دشمن ہے اور ایک چھپا ہوا دشمن ہے آج ملک کے حالات نے ہمیں مجبور کر دیا یا یوں کہئے کہ ہماری ضرورت بن گئی ہے ملک میں ہماری ماں بہنوں کو بے پردہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہماری شریعت کو مٹانے کی سازش کی جا رہی ہے ہم سے ہماری شہریت کا حق چھینا جا رہا ہے مسجدوں پر بلڈوز چلایا جا رہا ہے مزارات محفوظ نہیں ہے مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتایا جا رہا ہے سی اے اے قانون لا کر کے جو سازش کی جا رہی ہے وہ سمجھنے کی بات ہے سال 2014 سے ملک کی برسرِ اقتدار بی جے پی حکومت رہی ہے انھوں نے صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا ہے وہ کہتے ہیں 80 اور 20کی بات کی جا رہی ہے 80 میں تمام غیر مسلم ہیں اور 20 فی صد ہم مسلمان ہیں سی اے اے قانون کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی شہریت کے لیے درخواست دے گا اگر وہ غیر مسلم ہے تو اسے شہریت دی جائے گی اور اگر مسلمان ہیں تو اسے شہریت نہیں دی جائے گی، انکا اگلا قدم این آر سی لانے کا ہے حکومت کے کارندے آپ کے گھر تک پہنچ کر ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگے گے، ہمیں انڈین ہونے کے کاغذات پیش کرنا پڑے گا، جو ثبوت نہیں پیش کرسکے گا پولس اسے ڈکٹینشن کیمپ میں لے جائے گی یہ ایسا قید خانہ ہے جہاں خاندان کے افراد ملاقات بھی نہیں کرسکتے ہیں بہت ممکن ہے لے جانے کے بعد جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا سانس لینا مشکل اور زہریلی گیس چھوڑ دی جاتی تھی اور سب مر جاتے تھے ہمیں این آر سی کے نام پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے بی جے پی ہم سے ہماری شہریت چھیننا چاہتی ہے بی جے پی ہم سے ہماری شریعت چھین لینا چاہتی ہے انکا جو نعرہ ہے اب کی بار 400 کے پار، انکے عزائم یہ ہے کہ اگر چار سو کے پار آگئے تو پھر اس ملک کا دستور بدل دیا جائے گا ہم کو ووٹ دینے سے محروم کر دیا جائے گا یہ سب باتیں دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈران کہہ رہے ہیں جو اپوزیشن میں ہے ہم مسلمان نہیں کہہ رہے ہیں اگر اب کی بار 400 کے پار آگئے تو یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا ہم اپنی شریعت کے مطابق کوئی کام نہیں کرسکتے ہیں نماز، نکاح ختنہ مسجد مدرسہ اپنی دینی وملی تشخص کو باقی نہیں رہے گا، یہ سب ختم کر دیا جائے گا۔
ان حالات میں ہمیں اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جب تم کو دو مصیبتوں نے گرفتار کر لیا ہو تو ہلکی مصیبت اختیار کر لیں، آج روڈ گٹر تعلیم بجلی وغیرہ مسئلہ نہیں ہے سب اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہماری شریعت، اگر مَیں مسلمان رہ کر نہیں جی سکتا تو ایسی زندگی جینے کا کیا فائدہ، ہمیں اپنا ایمان عزیز ہے کانگریس پارٹی میں کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے ہیں اس لیے حمایت کر رہے ہیں ایسا نہیں ہے ہلکی مصیبت یہ ہے کہ کانگریس پارٹی کا جو امیدوار ہے وہ دھولیہ مالیگاؤں حلقہ پارلیمنٹ سیٹ پر بی جے پی کے امیدوار کو سیدھا ٹکر دینے کی حیثیت رکھتا ہے اگر ہم نے شوبھا تائی بچھاؤ کی حمایت کا اعلان بلا شرط کیا ہے اور شہریان انہیں بھاری اکثریت سے ووٹ کریں ۔

 مہا وکاس اگھاڑی کا یہ امیدوار جیت سکتا ہے ہم نے شوبھا تائی بچھاؤ کی ووٹ کا جو فیصلہ کیا ہے اس لئے کے ہمارا حجاب باقی رہے ہماری مسجد مدرسہ مذہبی امور کی آزادی باقی رہے ہم مذہب کی آزادی چاہتے ہیں جب یہ سیکولر امیدوار جیت کر آئے گا تو ہم مطالبہ رکھیں گے ہمیں کوئی خرید نہیں سکتا ہے ہم غدار ملت نہیں ہے ہم غدار قوم نہیں ہے ملت فروش نہیں ہے ووٹوں کا سودا نہیں کرتے، ہم ضمیر فروش نہیں ہے. ہم اپنے اگلے جلسے میں تفصیل بتائیں گے. مَیں آپ سے اپیل کرتا ہوں 20 مئی کو صبح سویرے اولین ساعتوں ووٹ دینے جائے اور سیکولر امیدوار شوبھا تائی بچھاؤ کو ووٹ دیں. بارش ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوکر جلسہ کو کامیاب کیے۔اس موقع پر ابتدائی تقریر علیم الدین فلاحی،اطہر حسین اشرفی،یوسف الیاس سیٹھ، وغیرہ نے مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے