ووٹر سلپ کیلئے ہاہاکار ،سو فیصد ووٹر سلپ کی تقسیم نہیں تو سو فیصد پولنگ کیسے؟ بی ایل اوز بھی پریشان



ووٹر سلپ کیلئے ہاہاکار ،سو فیصد ووٹر سلپ کی تقسیم نہیں تو سو فیصد پولنگ کیسے؟ بی ایل اوز بھی پریشان


سیاسی پارٹیوں کو اسٹال لگا کر پورے شہر میں ووٹر سلپ تقسیم کرنا پڑ رہی ہیں پھر بھی ووٹرس کو سلپ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا


امیدواروں کی سست روی سے بھی پولنگ فیصد پر منفی اثرات کا امکان


مالیگاؤں : 15 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) دھولیہ لوک سبھا سمیت مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں 20 مئی کو پانچویں مرحلے کیلئے پولنگ ہوگی ۔اس سے قبل الیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بی ایل اوز کے ذریعے گھر گھر ووٹر سلپ کی تقسیم کی جارہی ہیں ۔ووٹرس سلپ کی تقسیم شروع ہوتے ہی یہ معاملہ سامنے آیا ہے کہ بیشتر ووٹرس کو سلپ ہی نہیں مل سکی ہے ۔بی ایل اوز کا کہنا ہے کہ کچھ ووٹ یا تو ڈیلیٹ ہوگئی ہے یا پھر کسی دوسرے پولنگ اسٹیشن پر منتقل ہوگئی ہے ۔اس کا انکشاف بھی اس وقت ہوا جب بیدار ووٹرس نے از خود بی ایل اوز سے سلپ کے حصول کا مطالبہ کیا ۔

لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر شہر کی تمام سیاسی و دینی جماعتیں اور ملی اداروں نے الیکشن کمیشن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے شہر بھر میں سو فیصد ووٹنگ کرنے کیلئے بیداری شروع کی ۔اخبارات کے ذریعے عوام کو بیدار کیا جارہا ہے تو کہیں کارنر میٹنگ کے ذریعے تو کہیں پریس کانفرنس لیکر عوام کو ووٹ کے حق کا استعمال کرنے کی اپیلوں کی جارہی ہیں ۔الیکشن محکمہ اور ملی جماعتوں و سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے شہر بھر کے ووٹرس میں زبردست بیداری پیدا ہوگئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی ووٹ دینے کیلئے بے چین ہیں اور 20 مئی کا انتظار کررہا ہے ۔لیکن اس بیچ تشویش و پریشانی کی بات یہ ظاہر ہورہی ہیں کہ ابھی بھی کئی ووٹرس کو سلپ نہیں مل سکی ہے ۔

اس سلسلے میں دینی جماعتوں اور سیاسی پارٹیوں نے بی ایل اوز کی آسانی کیلئے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے اور خود سیاسی جماعتوں نے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ کے علاوہ ہارڈ کاپی میں ووٹر لسٹ کیساتھ ووٹرس سلپ کی تقسیم کیلئے  اسٹال بھی لگانا شروع کردیئے ہیں ۔جن سیاسی جماعتوں کی جدوجہد جاری ہے ان میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے 50 اسٹال ووٹرس کیلئے لگائے گئے ہیں تو وہیں سماجوادی پارٹی نے 30 اسٹال اور کانگریس پارٹی نے 20 لیپ ٹاپ کے ذریعے اپنی خدمات دینے کا اعلان کیا ہے ۔وہیں مجلس پاسبان آئین کے ڈاکٹر خالد پرویز نے بھی ووٹرس کی سہولت کیلئے جدوجہد شروع کردیا ہے ۔

ان تمام کوششوں کے باوجود  شہر میں عوام کی ایک بڑی تعداد کو ابھی تک ووٹر سلپ کی تقسیم مکمل طور پر نہیں ہوسکی ہے جس سے عوام میں سلپ کو لیکر ہاہاکار مچی ہوئی ہیں ۔یہ پہلا موقع ہے کہ لوک سبھا انتخابات کو لیکر شہریان میں حد درجہ بیداری کا رجحان نظر آریا ہے۔اسی لئے ووٹر سلپ کو لیکر عوام میں بے چینی کا ماحول ہے ۔بی ایل اوز حضرات بھی عوام کو ووٹر سلپ گھر گھر پہنچا رہے ہیں اور اسٹال بھی لگا رہے ہیں تاکہ ہر ایک کو اپنا حق رائے دہی ادا کرنے کا موقع مل سکے ۔الیکشن محکمہ بھی سو فیصد ووٹنگ کرنے کیلئے عوام کو بیدار کررہا ہے ۔اس ضمن میں اگر سو فیصد ووٹر سلپ تقسیم نہیں ہوتی ہے تو پھر پولنگ بھی سو فیصد ہو ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ابھی بھی چار روز پانچ روز باقی ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں اور ملی تنظیموں کے علاوہ بی ایل او حضرات اپنا قومی فریضہ سمجھ کر ووٹرس کیلئے پریشانی کا خاتمہ کر آسانی سے ووٹر سلپ فراہم کرنے کا انتظام کریں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے