آصف شیخ رشید کی تقریر پر وشو ہندو پریشد و بجرنگ دل کو اعتراض، کارروائی کا مطالبہ و مذمت


آصف شیخ رشید کی تقریر پر وشو ہندو پریشد و بجرنگ دل کو اعتراض، کارروائی کا مطالبہ و مذمت 



آصف شیخ کیخلاف دھمکی آمیز پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل کر ہندوؤں کو بیدار کرنے کی اپیل 



مالیگاؤں : 23 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) لوک سبھا چناؤ کی تشہیری مہم کے دوران مشاورت چوک میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے منعقدہ آخری جلسہ عام آصف شیخ رشید نے وزیر اعظم نریندر مودی، امیت شاہ وغیرہ کے ویڈیو بیانات بتا کر عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ آج ملک میں نفرت انگیز سیاست ہورہی ہیں ۔دستوری عہدوں پر فائز وزیر اعظم و وزیر داخلہ بے تکا بیان دیکر ہندو مسلم کے بیچ نفرت پھیلا رہے ہیں انہیں یہ زیب نہیں دیتا ۔وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ گئو ہتھیا کرنے والوں کو الٹا لٹکا کر سیدھا کروں گا، اس بیان کو بھی آصف شیخ نے عوام کے بیچ بتا کر کہا تھا کہ انہیں اسطرح کا بیان زیب نہیں دیتا، کیا پھر اس ملک میں اخلاق احمد اور حافظ جنید جیسے لوگوں کو قتل کروانا چاہتے ہو؟ وزیر داخلہ کو اس طرح بیان نہیں دینا چاہیے تھا ۔آصف شیخ نے کہا تھا کہ انکے اس بیان سے گئو رکشکوں کے حوصلے بلند ہونگے، وزیر داخلہ انہیں ہوا دے رہے ہیں ۔

آصف شیخ کی تقریر کے اس ویڈیو کو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے افراد سوشل میڈیا پر وائرل کر آصف شیخ کی مذمت کررہے ہیں ۔ان سے اس بیان کے تعلق سے معافی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔انہیں مالیگاؤں سے باہر نکلنے پر دیکھ لینے دھمکی آمیز پوسٹ بھی شیئر کررہے ہیں ۔اس سلسلے میں اکشے ایم واگھ نے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں آصف شیخ کے تعلق سے لکھا ہے کہ 
"یہ مالیگاؤں شہر میں این سی پی مہا وکاس اگھاڑی کے ایم ایل اے آصف شیخ ہیں۔ اگرچہ مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا قانون نافذ ہے، وہ کھلے عام گائے کے ذبیحہ کو چیلنج کر رہا ہے لیکن مالیگاؤں میں یہ کتا بھوک رہا ہے۔ اگر مالیگاؤں کے باہر ایسا ہوتا ہے تو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو وہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی جو کچلے ہوئے کتے کے ساتھ ہوتا ہے۔ آصف شیخ نے اپنے اس بیان پر معافی مانگیں ۔ہم عوامی سطح پر اس کی مذمت کرتے ہیں ۔

اس ضمن میں نمائندہ بیباک کو جب یہ پوسٹ موصول ہوئی تو انہوں نے آصف شیخ رشید سے رابطہ کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی تو موصوف نے کہا کہ جمہوریت میں سب کو آزادی ہے ۔ہم ہر چیلنج کا سامنا کرنے تیار ہیں ۔رہی بات میرے تعلق سے جو پوسٹ وائرل ہورہی ہیں اس تعلق سے میں خود پولس میں شکایت درج کروں گا کہ میرے بیان کا غلط پروپیگنڈہ کر ہندو مسلم کے بیچ نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہیں اور میری ذاتیات پر نازیبا تبصرہ کیا جاریا ہے ۔اس تعلق سے بھی میں قانونی کارروائی کرنے کیلئے تیار ہوں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے