بجلی چوری روکنے کیلئے آزاد پولس ٹیم کی تشکیل ، ایس پی کا کنٹرول، وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کا حکمنامہ
مالیگاؤں :6 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر ریاست کے محکمہ داخلہ نے مالیگاؤں شہر میں بجلی چوری کے واقعات کو روکنے کے لیے نوٹس لیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کے آرڈر کے بعد اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولس کا حکم ملنے کے بعد اب مالیگاؤں میں بجلی چوری روکنے کے لیے ایک الگ ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ اس ٹیم میں مالیگاؤں شہر کے باہر سے دو پولس افسران اور دس پولس شامل ہوں گے۔
مالیگاؤں شہر میں ایک سال میں 319 کروڑ روپے کی بجلی چوری ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ ریاست بھر میں موضوع بحث بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل گرین ٹربیونل نے 2019 میں پلاسٹک فیکٹریوں کو بند کر دیا تھا ۔لیکن پلاسٹک مشین دوبارہ شروع ہوگئی ہے ۔ریاست کے محکمہ داخلہ نے اس پورے غیر قانونی نوعیت کا نوٹس لیا ہے۔ مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ کمپنی کو غیر قانونی بجلی چوری روکنے کے لیے پولس کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس لیے ناسک ضلع کی اس وقت کی اسپیشل پولس آف انسپکٹر جنرل ڈاکٹر بی۔ جی۔ شیکھر پاٹل کے ذریعہ اس سلسلے میں ایک حکم نامہ 29 جنوری کو جاری کیا گیا تھا۔
اس حکم کے تحت ایک آزاد ٹیم مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ کمپنی کے عہدیداروں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھیں گے اس ٹیم نے دو شفٹوں میں کام کرنا ہوگا ۔اس ضمن میں ناسک ضلع دیہی سپرنٹنڈنٹ آف پولس تعلقہ میں افرادی قوت فراہم کرینگے جبکہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس مالیگاؤں کو اندرون توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ۔اسی طرح اب مالیگاؤں ایڈیشنل پولس الگ دستے پر ایس پی کا براہ راست کنٹرول ہوگا۔ بجلی چوری کے خلاف قانونی کارروائی کے ذریعے الزام کی تفتیش 60 دنوں میں عدالت میں دائر کر دیا جائے گا ۔تاکہ بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
پولیس انتظامیہ کو فوری کارروائی کی ہدایات
اس ضمن میں پولس انتظامیہ کو اپنی ٹیم کی انفرادی کارکردگی اور بجلی چوری کے رجسٹرڈ جرائم کی رپورٹ کی شرح جلد از جلد دینا ہوگا ۔
بجلی چوری کا گراف بڑھا
مالیگاؤں میں بجلی چوروں کی بھرمار ہے۔ ریموٹ سے چھیڑ چھاڑ، رات کے وقت میٹر کا سوئچ آف کرنا، کلوننگ میٹروں کی چوری، میٹر ریڈنگ کے دوران کلون میٹر لگانا بجلی چوری کی عام شکلیں ہیں۔ رات کو اعداد و شمار گرا کر بجلی چوری کرنے والی پلاسٹک کی غیر مجاز فیکٹریاں پوری صلاحیت سے چلائی جاتی ہیں۔ مالیگاؤں پاور سپلائی کمپنی ان تمام بددیانتی کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھا رہی ہے۔ یہ تمام قسمیں آسانی کے ساتھ جاری ہیں۔ پولس تعاون نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کمپنی کو کارروائی کرنا مشکل ہو گیا۔ اب بجلی چوری روکنے کے لیے آزاد ٹیم کے ذریعے سخت کارروائی کی جائے گی ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com