ملت اور پاورلوم پریشد کے سوال پر مفتی اسمٰعیل کا طریقہ غیر مناسب ، تو ہم بھی کھیل بگاڑ دینگے، مفتی اسمٰعیل کرکٹ کے بارہویں کھلاڑی : مستقیم ڈگنیٹی


ملت اور پاورلوم پریشد کے سوال پر مفتی اسمٰعیل کا طریقہ غیر مناسب ، تو ہم بھی کھیل بگاڑ دینگے، مفتی اسمٰعیل کرکٹ کے بارہویں کھلاڑی : مستقیم ڈگنیٹی 


تم سوال کرنا بند کردوگے تو نااہل لوگ قیادت کرینگے جیسے یہ نااہل ہے، ہم بھول گئے کہ مالیگاؤں سے بولنے والا کوئی ایم ایل اے اسمبلی میں پے 



ایچل کرنجی کو اچھی لیڈر شپ ملی، اس لئے پاورلوم صنعت نے ترقی کی، ہم مالیگاؤں کے مسائل پر توجہ دینگے: رئیس شیخ


پلین پاورلوم میں جدید سسٹم لگانے سے بجلی کی بچت ہوگی: پرتاب ہوگاڑے






مالیگاؤں (نامہ نگار) 3 جنوری بروز بدھ کو بنکر لانس میں سماجوادی پارٹی کی جانب سے بامقصد بنکر پریشد انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس پاورلوم پریشد میں شہر کے بنکروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ پریشد کی کاروائی کا آغاز ہوا۔ پاورلوم پریشد میں شریک بنکروں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا تھا۔ بنکر حضرات سوالات کررہے تھے۔ اور ایم ایل اے رئیس شیخ بنکروں کے مسائل اور انہیں کیسے حل کیا جائے گا؟ اس سلسلے میں ٹھوس ڈھنگ سے جوابات دے رہے تھے۔ بنکروں کی جانب سے اسحق سیٹھ زری والا، ضیاء حکیم، عبدالوحد ریلائبل، ضیاء زری والا، خورشید سیٹھ چمڑے والے، دھولیہ، ایولہ کے بنکروں نے اپنی تجاویز پیش کی۔ اس با مقصد پاورلوم پریشد سے ایم ایل اے و سرکاری پاور اسٹڈی گروپ کے اہم رکن رئیس شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر میں اتنی بڑی تعداد میں بنکر و صنعت کار حضرات پاورلوم پریشد میں شریک ہوئے صنعت کے تعلق سے ان کی سنجیدگی ظاہر ہورہی ہے انکے مسائل بہت زیادہ ہیں۔ اور اگر سنجیدگی اور ایمانداری سے کام کیا جائے تو پاورلوم صنعت کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت 30 لاکھ پاورلوم اور اس سے جڑے 12 لاکھ بنکروں کو نظر انداز نہیں کرسکتی ہے۔ہم پاورلوم صنعت کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایماندار ہے اور مالیگاؤں شہر سمیت ریاست بھر کے مسائل کو شان ہند و مستقیم ڈگنٹی اور ہماری ٹیم مل کر ضرور حل نکالے گی۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے بتایا کہ اس سے قبل ٹیکسٹائیل کمیٹی کئی مرتبہ بنائی گئی لیکن پہلی مرتبہ خصوصی طور سے پلین پاورلوم کے لئے اسٹڈی گروپ بنایا گیا ہے۔ ہم پوری توجہ کیساتھ بنکروں کے 10 / اہم مسائل کو حکومت کے سامنے رکھیں گے اور اسے حل کروانے کی کوشش کرینگے۔ موصوف نے کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کا سال ہے۔ اس لئے حکومت ضرور الیکشن کے دوران اچھا فیصلہ کرے گی اور پاورلوم صنعت کو فائدہ ہوسکتا ہے ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مایوسی کفر ہے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے پاورلوم اسٹڈی گروپ کے ممبران کی نامزدگی کے بعد چیئرمن کے انتخاب کے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ دادا بھسے کو چیئرمن بنانے کی سفارش اسٹڈی گروپ کے ممبران نے اس لئے کی تھی کہ دادا بھسے وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھی ہیں اور ان کا تعلق پاورلوم سٹی مالیگاؤں سے بھی ہے۔ ہم ان سے مل کر کام کریں گے اور پلین پاورلوم کو فائدہ دلوائیں گے۔ سوال و جواب کے سیشن میں ضیاء سیٹھ زری والا کے سوال پر کہ ایچل کرنجی کیسے ترقی کرگیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایم ایل اے موصوف نے کھل کر کہا کہ اس معاملے میں قیادت قابل اور کام کرنے والی ہونا چاہئے۔ ایچل کرنجی کے ایم ایل ایز نے پاورلوم صنعت کی ترقی کیلئے کام کیا ہے اور اس کا فائدہ اور ترقی پاورلوم صنعت کو حاصل ہوئی۔ مالیگاؤں شہر میں اس جانب کام نہیں کیا گیا۔ اس لئے ایچل کرنجی کے مقابلے میں مالیگاؤں پیچھے رہ گیا ہے۔ اس پاورلوم پریشد میں بنکروں کے تکنیکی سوالات کا جواب دیتے ہوئے پرتاپ ہوگاڑے نے تفصیلی معلومات فراہم کیں، موصوف نے پاورلوم، بجلی میٹر اور دیگر سسٹم میں بدلاؤ کے متعلق بتایا کہ اگر اس جانب توجہ دی گئی تو بجلی کی بچت ہوگی، اور بجلی بل بھی کم آئے گا۔ پرتاپ ہوگاڑے نے پاورلوم اسٹڈی گروپ کے متعلق بتایا کہ حل میں 2023ء میں نئی ٹیکسٹائیل پالیسی بن چکی ہے۔ اس نئی پالیسی میں دو سال تک بجلی سبسڈی بنکروں کو ملے گی اور اسکے بعد سبسڈی ختم کرکے بنکروں کو سولار پاور سسٹم میں جانا ہوگا۔ اس معاملے میں اسٹڈی کی جارہی ہے اور پاورلوم صنعت کے دیگر مسائل پر بھی ریسرچ کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت سے اسٹڈی گروپ بجلی سبسڈی میں اضافہ کرنے کی مانگ کرسکتا ہے۔ پرائیویٹ بجلی کمپنی کے متعلق پرتاپ ہوگاڑے نے خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں پرائیویٹ بجلی کمپنی مالک نہیں ہے وہ حکومت کی ایجنٹ ہے اگر اسے بھگانا ہے تو اس کی غلطیوں کا ریکارڈ جمع کرو، تب ہی اسے ہٹایا جاسکتا ہے۔ بنکر پریشد سے ضیاء حکیم نے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ کو مبارکباد پیش کی، رئیس شیخ کی وجہ سے اسٹڈی گروپ بنا ہے۔ ان کی مالیگاؤں آمد شہر کی پاورلوم صنعت کیلئے با عث رحمت ہے۔ بنکروں کو معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل نقصان ہورہا ہے۔ اب ہمیں کام کرنے والا لیڈر ملا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ اب صنعت کے مسائل حل ہوں گے۔


مستقیم ڈگنٹی نے کیا کہا 

بنکر پریشد کو کامیاب بنانے پر مستقیم ڈگنٹی نے بنکروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر بنکر حضرات اس بنکر پریشد میں شریک نہیں ہوتے تو اس کانفرنس کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ ان کی موجودگی سے ہمیں حوصلہ ملا ہے۔ ہمیں ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ جیسے قائد ملے ہیں۔ رئیس شیخ نے اسمبلی اجلاس میں اپنی بات اچھے ڈھنگ سے رکھی اور حکومت سے بات منوا کر کمال کردیا۔ ہمیں اُمید ہے کہ ایم ایل اے رئیس شیخ پاورلوم صنعت کے مسائل ضرور حل کریں گے۔ مستقیم ڈگنٹی نے بنکر پریشد کو ڈائنا مائیٹ کرنیکی کوشش کرنے پر کرکٹ کھیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 12 ویں کھیلاڑی کو نہ تو کھیلتے آتا ہے نہ ہی اس کی کھیل میں دلچسپی ہے۔ نہ ہی سیکھنے کی اُمنگ ہے۔ پھر بھی کھیلنے کی ضد کرتا ہے اور نہ کھلانے پر کھیل بھنڈانے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح سے ہمارے شہر کے ایم ایل اے کا معاملہ ہے۔ نہ تو کام کرتے آتا ہے، نہ کام کرنے میں دلچسپی ہے نہ ہی سیکھنے کی اُمنگ ہے۔ لیکن بنکروں کا کھیل خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سنجیدگی سے کام کرنے کی بجائے انتشار پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ اس معاملے میں مستقیم ڈگنٹی نے بنکروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص پاورلوم صنعت کا کھیل خراب کرنے کی کوشش کرے، بنکر حضرات اُس کا کھیل بھنڈا دیں۔ مستقیم ڈگنٹی کے اس اعلان پر بنکر لانس تالیوں سے گونج اٹھا۔

شان ہند نے کیا کہا 


اس بنکر پریشد کی صدارت کررہی شان ہند نے شہر کے بنکروں کے متعلق کہا کہ شہر کا بنکر متحرک ہے۔ بس اسے ساتھ لے کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مالیگاؤں شہر میں بولنے والا ایم ایل اے نہیں تھا۔ بہت برسوں کے بعد اسمبلی اجلاس میں بولنے والا ایم ایل اے رئیس شیخ سامنے آیا ہے۔ بنکروں سے اس سے ضرور فائدہ ہوگا۔ شان ہند نے پاورلوم صنعت کو اپنی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ساتھی نہال احمد نے اتر پردیش لے جاکر ہینڈ لوم کے کاروبار کو بتایا تھا۔ شان ہند نے کھل کر کہا کہ ہمارے دلوں میں پاورلوم دھڑکتا ہے، ہم اس کی راہ میں آنے والی ہر دشواری کو دور کریں گے، سماجوادی میں شرکت کو بہتر فیصلہ مانتے ہوئے موصوفہ نے کہا کہ ابو عاصم اور رئیس شیخ جیسے درد مند بنکر دوست ایم ایلزہمیں مل گئے ہیں۔ جبکہ ہمارے شہر کا ایم ایل اے گونگا، بہرہ ہے آخر میں شان ہند نے پلین پاورلوم خریدنے کیلئے حکومت سے قرض ملنا چاہئے، فی لوم 25 ہزار کا روبار چلانے کیلئے ملنا چاہئے اور جس طرح کسانوں سے حکومت فصل خریدتی ہے اسی طرح سے بنکروں کا کپڑا بھی خریدنا چاہئے، شان ہند نے سماجوادی پارٹی کے ورکروں اور ہمدردان کا بھی شکریہ ادا کیا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے