لیڈروں کو صرف راشن دکانوں کی کالا بازاری نظر آتی ہے پریشانی نہیں ، یکم جنوری سے راشن دکانداروں کی بے مدت ہڑتال



لیڈروں کو صرف راشن دکانوں کی کالا بازاری نظر آتی ہے پریشانی نہیں ، یکم جنوری سے راشن دکانداروں کی بے مدت ہڑتال




مالیگاؤں :30 دسمبر (پریس ریلیز) راشن دکانوں سے غریب عوام کو سستے داموں اناج مل جاتا ہے لیکن خدشہ ہے کہ یکم جنوری لے سے ان غریبوں کو سستا اناج نہیں مل پائے گا۔کیونکہ راشن دکانوں کی ہڑتال شروع ہونے والی ہے، سرکاری راشن دکان چلانے والوں کےکئی عرصہ سے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کررہے ہیں ۔دکانداروں کی مانگ یہ ہیکہ کمیشن بڑھا کر دیا جائے آج انکے مطالبات مانے نہیں جارے ہیں۔ ایک کو ئنٹل پروگرام 100 روپیہ کمیشن مل رہا ہے۔ اگر پندرہ ہزار کوئنٹل کی دکان ہے تو اسے پندرہ سو روپیہ مل رہا ہے۔ اس کمیشن میں میں دکان بھاڑا، اناج یادی بنانے والے کی پگار، ماہاری کی پگار، اسی طرح اناج کی گونی جس میں گوڈاون سے گھٹ آتی ہے اس میں ایسے کل ملا کر ۲۰ ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے ۔ اور کمیشن 10000 مل رہا ہے۔ ان جیسے ٨ مطالبات کو لیکر راشن دکان دار حکومت سے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ پورے مہاراشٹر میں ۵۳۰۰ ہزار راشن دکان ہے۔ جو آج بھکمری کا شکار ہیں ۔ آج ہر لیڈر کو راشن دکان کی کالا بازاری نظر آتی ہے لیکن دکانداروں کے پریوار کا کیا حال ہیں وہ نہیں سمجھ میں پاتے ۔

ان سب مطالبات کو لیکر آل انڈیا فیر پرائز اسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری ہاشو پٹیل نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے راشن دکانیں بند رہیگی ۔اسی بند میں مالیگاؤں کی تمام 129 راشن دکان بھی شامل ہے۔اسطرح کی اطلاع ایک پریس ریلیز کے ذریعے شیخ نثار شیخ اکبر صدر مالیگاؤں راشن یونین  نے دی ہے ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے