سب رجسٹرار آفس کی منتقلی، کل سٹانہ ناکہ پر دادا بھسے کے ہاتھوں افتتاح


سب رجسٹرار آفس کی منتقلی، کل سٹانہ ناکہ پر دادا بھسے کے ہاتھوں افتتاح



سینٹرل اسمبلی حلقہ میں بھی سب رجسٹرار آفس جاری کرنے مالیگاؤں کی سیاسی قیادت کمزور 




مالیگاؤں : یکم اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر میں برسوں سے جاری سب رجسٹرار آفس اول، دوم اور سوم جاری ہے ۔یہاں شہر و تعلقہ کی عوام اور زمین کے کاروبار کرنے والے افراد کاغذی و قانونی کارروائی کرتے ہوئےاپنی زمین کی خرید و فروخت کرتے ہیں ۔چونکہ مالیگاؤں شہر حقیقی و جغرافیائی طور پر مسلم آبادی سے گھرا ہوا ہے اور یہاں زمین کی خرید و فروخت کیلئے گزشتہ کئی سالوں سے مسلم عوام زیادہ تعداد میں آتے ہیں اور اپنی زمین کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔سب رجسٹرار آفس سے کروڑوں روپے کی زمین کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہیں اور یہ زیادہ تر مالیگاؤں شہر کی عوام ہی کرتی ہیں ۔اس لئے اب شہر کی عوام کو پرانی سب رجسٹرار آفس واقع کیمپ روڈ کورٹ کے سامنے جانے کی بجائے سٹانہ ناکہ پر جانا ہوگا ۔عوام کو اس ضمن میں ذہنی و جسمانی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ۔عوام کا کہنا ہے کہ ہم سٹانہ ناکہ پر سب رجسٹرار آفس کو جانے سے روک نہیں سکتے ہیں تو کم از کم مالیگاؤں شہر کے سینٹرل علاقے میں بھی ایک سب رجسٹرار آفس کو منتقل کیا جائے ۔عوام بالخصوص زمین کے کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سٹانہ ناکہ پر جانے آنے میں تکالیف تو ہوگی لیکن اسے راحت میں بدلنے کیلئے ایک آفس کو مالیگاؤں بس اسٹینڈ کے پاس بھی جاری کیا جاسکتا ہے ۔وہیں خبر یہ بھی ہے کہ شہر میں اب تک تین سب رجسٹرار آفس جاری ہیں جس میں سے ایک سب رجسٹرار آفس کل سٹانہ ناکہ منتقل ہوجائے گی اور ایک آفس کو کیمپ لیجانے کی تیاری کی جارہی ہیں تو وہیں ایک آفس کو مالیگاؤں سینٹرل علاقے میں جاری کیا جائے ۔اسطرح کا مطالبہ بھی گزشتہ دنوں آصف شیخ رشید نے زمین کے تاجروں کے ساتھ مل کر کر انتظامیہ سے کیا تھا ۔خیال رہے کہ مالیگاؤں شہر میں ابھی فی الحال نمائندگی کیلئے ایک ایم ایل اے مفتی اسماعیل ہے ۔عوام سوال کررہی ہے کہ مالیگاؤں کی سیاسی قیادت کیا کررہی ہے؟ سب رجسٹرار آفس دوم کا افتتاح کل صبح گیارہ بجے سٹانہ ناکہ پر وزیر دادا بھوسے کے ہاتھوں ہوگا ۔اور اس آفس سے منسلک تمام کام کاج سٹانہ ناکہ پر ہی ہونگے ۔عوام اور زمین کے کام کاج کرنے والوں کو اب سٹانہ ناکہ جانا پڑے گا۔ اس بات کا دھیان رکھا جائے ۔
اس سلسلے میں نمائندہ بیباک کو موصل ہوئی اپیل کے مطابق سٹانہ ناکہ پر جانے والی اس آفس پر اعتراض تو نہیں لیا گیا لیکن ایک آفس مالیگاؤں سینٹرل میں بھی جارہی کی جائے کیونکہ اس شہر میں سب سے زیادہ آبادی مسلم سماج کی ہے اس لئے انہیں بھی سرکاری سہولیات فراہم کرنا عوامی نمائندوں بالخصوص ایم ایل اے مفتی اسمٰعیل قاسمی و وزیر دادا بھوسے کی ذمہ داری ہے ۔خیال رہے کہ سابقہ دور میں مالیگاؤں شہر کے حصے کی ایم آئی ڈی سی کو  سنر شہر میں ٹرانسفر کردیا گیا تھا اور اسی طرح 2009 اور 2010 کے درمیان آر ٹی او آفس مالیگاؤں شہر سے باہر ٹہرے دیہات میں منتقل کردی گئی ہے اور اب سب رجسٹرار آفس کو بھی منتقل کیا جارہا ہے اور مستقبل میں مزید کونسی سرکاری آفس شہر سے باہر جائے گی اس پر کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نمائندگی کا دم بھرے اور عوام کو سہولیات فراہم کریں نہ کہ کسی کی جی حضوری میں شہر کی عوام کو گمراہ اور دھوکہ دیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے