جنتادل سیکولر ہر میٹنگ، جلسہ، مورچہ ، آندولن میں مفتی اسماعیل پر انگلی اٹھاتی ہے



جنتادل سیکولر ہر میٹنگ، جلسہ، مورچہ ، آندولن میں مفتی اسماعیل پر انگلی اٹھاتی ہے 



گٹ بندھن میں رہتے ہوئے مفتی اسمٰعیل کو صدر تسلیم کرنے والے راشٹروادی کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے؟ انصاری محمد حسین


مالیگاؤں 2 جولائی (پریس ریلیز) گزشتہ روز مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی کے مشیر خاص انصاری محمد حسین نے مقامی ایک یوٹیوب چینل کے یوٹیوبر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ، جنتادل سیکولر جب بھی لوگوں کو کسی بات پر جمع کرتی ہے کوئی جلسہ، میٹنگ، مورچہ ، آندولن کرتی ہے تو صرف انکی تنقید کا نشانہ ٹارگٹ آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی کو ہی کرتے ہیں ایسا کیوں..؟ جب کہ وہ گٹ بندھن میں رہتے ہوئے مفتی اسمٰعیل قاسمی کو صدر مانتے ہیں اور بارہا مرتبہ صدر بول کر ان پر انگلی اٹھاتے ہیں اپنوں کو ہی نشانہ بنایا نمائندے نے سوال کیا جو گزشتہ روز آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ بناء کام کیے بل نکال لیا گیا اور اس کے دوسرے دن وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی کہ کام اب مکمل ہوچکا ہے اس پر انکا کیا کہنا ہے انصاری محمد حسین نے کہا کہ ہمیں تقریباً چار ماہ قبل ہمیں معلوم پڑتا ہے اسکول کے دو کمرہ بنانے کا کام نہیں کیا گیا اور بل نکال لیا گیا ہے مفتی اسمٰعیل قاسمی نے پی ڈبلیو ڈی کے آفیسران سے بات چیت کی اس وقت انکوائری میں یہ بات معلوم ہوئی کہ کام نہیں ہوا ہے اس کے بعد ان آفس کے لوگوں نے ٹھیکیدار کو کام مکمل کرنے کی وارننگ دی، تو کام چار مہینے کے بعد کام شروع کیا گیا اب آٹھ روز قبل کام مکمل ہوا ہے اور جب آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ بجٹ 2019 کا ہے توکمرہ بنانے کا کام سال 2020 میں ہوجانا چاہیے تھا دو کمروں کو بنانے کے لیے کتنا وقت لگتا ہے..؟ تین ماہ اور انھوں نے بنانے میں چار سال لگا دیے، اور اصل تو بل ہے وہ کب نکلا ہے بل کب نکالا گیا ہے وہ بل شہریان کے سامنے آنا چاہیے، ایک دوسرے سوال کے ہمارے پاس کاغذات ہے اس پر حسین انصاری نے، مستقیم ڈگنٹی مرحوم نہال احمد کے ساتھ چلے ہوئے ہیں تجربہ ہے مگر سچ تو سچ ہوتا ہے میری ایسی معلومات ہے کہ انکے پاس بتانے کے لیے ایسا کچھ ہے نہیں، مگر ان پر الزام لگایا گیا ہے تو صفائی دینے کے لئے ایسا کہہ دیا گیا ہے جو سیاست کا حصہ ہے اور مفتی اسمٰعیل قاسمی الیکشن جیتنے کے بعد سب سے قریبی مستقیم ڈگنٹی ہی تھے پیپر ورک وہی دیکھ رہے تھے بجٹ کہاں اور کیسے ڈالنا ہے مجھے ایسا لگتا ہے وہ کچھ دنوں کے بعد یہ کہے گے کہ مَیں کوئی ٹھیکیدار نہیں ہوں کوئی ایجنسی نہیں ہوں، میرے نام پر لائسنس نہیں ہے مَیں نے یہ کام کی تجویز دی تھی کہ یہ کام ہونا چاہیے، اور چھ سے آٹھ ماہ قبل مفتی اسمٰعیل قاسمی نے تاشقند باغ کی روڈ کے کام کے وقت کہا کارپوریشن کی نالائقی کی وجہ سے سٹی انجینئر بچھاؤ نے ڈبل ڈبل این او سی دے دی تھی، اسطرح میرے وارڈ نمبر 6 میں ٹی ایم ہائی اسکول والی گلی اسکی بھی ڈبل این او سی دی گئی اس وقت مفتی اسمٰعیل قاسمی کا موقف تھا کام ہونا چاہیے، انکی اسی مثبت سوچ کی بناء پر کام کو میری گلی میں کر دیا گیا اسطرح نندی والا پیٹرول پمپ والی گلی وہ کام ہم کرنے والے تھے مگر شیخ آصف سابق آمدار کے بجٹ سے ہوچکا تھا اسکو تاشقند باغ میں منتقل کر دیا گیا تھا اور آپ جانتے ہیں کہ کارپوریشن کی این او سی اور پی ڈبلیو ڈی کی این او سی، کلکٹر کی منظوری یہ سب پیپر ورک اتنا آسان کام نہیں ہے۔

 ہمارے اور ادھیکاریوں کے بیچ مشورہ ہوا کہ ورک آرڈر ہونے کے بعد ہم آپ کے لیٹر کے زریعے کام کی لوکیشن جگہ تبدیل کر لے گے، اور ایک بجٹ سال 2021 اور 2022 کا گلی نمبر 14 اور 15کی گلی بننا تھا ہم نے پندرہ نمبر گلی چھ انچ کی تھی تو چودہ نمبر گلی کا بجٹ پندرہ می ضم کر کے وہاں روڈ کو دس سے بارہ انچ تک بنایا، اسطرح وقار سیٹھ کے گھر کے پاس روڈ بن گئی تھی ہم نے سلیمانی مسجد کے بازو والی گلی بنا دی اسکی تکلیف کے باعث شدید ضرورت پر بنائی تھی اس لیے ہم نے سلیمانی مسجد کی گلی بنا دی، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہے تو کام ہوگا ورنہ مفتی اسمٰعیل قاسمی کا کام نہیں ہوگا اور مفتی اسمٰعیل قاسمی کبھی کسی کو کچھ نہیں بولتے وہ کام وسواس رکھتے ہیں گٹ بندھن سے ہٹ کر مَیں دل کی بات بولنا چاہتا ہوں کہ پورے مالیگاؤں میں گٹ بندھن کا سب سے زیادہ فائدہ مجھے ہونے والا تھا کیونکہ مَیں وارڈ نمبر چھ سے امیدواری کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ پوچھ رہے ہیں تو مَیں بتانا چاہتا ہوں کہ سال دو سال سے جنتادل سیکولر کے لوگ کوئی بھی میٹنگ، جلسہ، مورچہ ، آندولن ، تحریک چلاتے ہیں تو صرف مفتی اسمٰعیل قاسمی پر تنقید کرتے ہیں اور انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ وہ ہمارے بل مقابل پارٹیوں، راشٹروادی کانگریس وغیرہ کے خلاف کہنا چاہیے، انھوں نے ہمیشہ گھر میں رہ کر گھر والوں کو ٹارگٹ کیا، مَیں یہ دیکھ رہا ہوں کہ نہ راشٹروادی کے لوگ سوشل میڈیا پر جنتادل کے خلاف لکھتے ہیں نہ جنتادل والے راشٹروادی کے بارے میں خلاف لکھتے ہیں آپ دیکھو چرخہ آندولن میں پولس کو ٹارگٹ اور شہر میں دبدبہ قائم رکھنے کے لیے لیا گیا مگر شان ہند، ساجدہ میڈم، مستقیم ڈگنٹی تینوں نے تنقید کا نشانہ آمدار مفتی اسمٰعیل قاسمی کو بنایا ۔

بہت مجبوری میں اب تین سال کے بعد مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا ہے جنتادل کے خلاف، وہ بھی انکو ایسا لگا کہ 2019 میں جو سرکل کا بجٹ دیا گیا تھا وہ کام نہیں ہوا تو جو انھوں نے 12 کاموں کا ٹینڈر ڈالا ہے تو یہ کام بھی نہیں ہوگا ورک آرڈر ہوگیا ہے فنڈ واپس نہیں جائے گا تخمینہ بڑھ جائے گا مجھے ایسا لگتا ہےایک وقت تھا جنتادل کا شہر میں مگر مفتی اسمٰعیل قاسمی کے سیاست میں آنے کے بعد جو مرحوم نہال احمد صاحب کے ماننے والے تھے وہ مفتی اسمٰعیل قاسمی کے ماننے اور چاہنے والے ہوگئے ہیں، اور انکا ووٹ بینک منتقل ہوگیا ہے تو یہ لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ تنقید کرو یہ جاۓ گے تو اپنا ووٹ بینک واپس آئے گا، ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے آج وقت جنتادل کا نہیں ہے مستقیم ڈگنٹی کا نہیں ہے انکو سوچنا چاہیے، اور جو کہتے ہیں ندی کے اُس پار اور اِس پار، مفتی اسمٰعیل قاسمی کو لگا جسطرح 2019 میں دیا گیا بجٹ کا کام نہیں کیا گیا تو یہ 12 ٹینڈر کا کام جو تین کروڑ پر مشتمل ہے ٹینڈر ڈالنا بھی شہر میں وکاس کے کام میں رکاوٹ بننے کے لئے کیا گیا ہے نا، اس میں جو کام ہوگا فائدہ شہریان کا ہوگا، حسین سیٹھ کمپاؤنڈ کے دو کام 25، پچیس لاکھ روپے کےجی اے ٹی ہائی اسکول کے پاس حنفیہ سنیہ مدرسہ کی روڈ، بسمہ اللہ باغ میں ایک روڈ، جو شدید ضرورت کے کاموں کا بجٹ ڈالا ہوا ہے پر انھوں نے ایسا کیا اور ٹینڈر بھرا ہے اس سے شہر کا کام تعمیر و ترقی کی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے اب شہریان کو فیصلہ کرنا چاہیے کون شہر کے حق کام کرنا چاہتا ہے اور کون لوگ روکنے کا کام کر رہے ہیں.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے