کیرئیر گائیڈنس کے نام پر مذہبی تعلیم کا الزام، ہندو تنظیموں کی شدید ہنگامہ آرائی کے بعد پولس کیس درج
رابطہ وزیر دادا بھوسے پولس اسٹیشن میں ڈٹے رہے، ایم ایس جی کالج کے پرنسپل معطل، شہر میں امن برقرار، افواہ پر دھیان نہ دیں
مالیگاؤں (12 جون) شہر کے ایم ایس جی کالج جاری کیرئیر گائیڈنس کے نام پر طلبہ کو مذہبی تعلیم اور مذہبی تبدیلی کے اسباق دئیے جانے کے الزام میں ہندوتوا تنظیموں نے پروگرام ہال میں ہنگامہ کیا۔اس دوران مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے ناراض رابطہ وزیر دادا بھوسے پولس اسٹیشن میں گھس گئے اور پولس انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ذرائع کے مطابق ایم ایس جی کالج، مالیگاؤں میں پونہ کے ستیہ ملک لوک سیوا گروپ کی طرف سے طلباء کے لیے کیریئر گائیڈنس پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ ہندوتوا تنظیموں نے اس پروگرام میں گھس کر خلل ڈالنے کی کوشش کی اور الزام لگایا کہ سرکردہ لیکچرار بچوں کو قرآن کی آیات پڑھا کر دوسرے مذاہب کے بچوں کو مسلمان ہونے کی تعلیم دے کر مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس واقعہ سے مالیگاؤں میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
پولیس نے اس معاملے میں کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ لیکن پولیس انتظامیہ نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی۔ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ کالج انتظامیہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، ناراض سرپرست وزیر دادا بھوسے سیدھے کیمپ پولس اسٹیشن پہنچ گئے اور پولس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے ایک اعلیٰ پولیس افسر سے رابطہ کرکے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اس دوران پولیس اسٹیشن کے سامنے کافی بھیڑ جمع ہوگئی۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے کالج انتظامیہ نے کالج کے پرنسپل کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ دریں اثنا، دادا بھوسے کے پولس اسٹیشن میں جانے کے بعد، پولس نے پروگرام کے منتظم، لیکچرار اور کالج کے پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور رات گئے تک طلباء کے جوابات قلمبند کیے تھے۔اسطرح کی خبر بھی مراٹھی نیوز پورٹل و نیوز چینل نے نشر کی ہے۔وہیں اس سلسلے میں کیمپ پولس اسٹیشن میں گناہ رجسٹرڈ نمبر 111 /2023 کے مطابق تعزیرات ہند کی دفعات 153 (اے) اور 295 (اے) ،34 کے تحت فریادی شام مادھو راؤ دورے (32)گیرج مکانک ،ساکن جونا ہولی چوک سمکسیر کی شکایت پر پروگرام کے کنوینر اعجاز انصاری احمد شمش الضحٰی، ایم ایس جی کالج کے پرنسپل سبھاش نکم، ایم ایس جی کالج کے وائس پرنسپل ساڑوے، سٹی کالج کے ریاض سر سمیت پروگرام کے اسٹیج پر حاضرین و کالج کے دیگر ذمہ داران پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ان ملزمان پر الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ پیغمبر محمد صل اللہ علیہ وسلم گروپ اور ستیہ ملک لوک سیوا گروپ مالیگاؤں کی جانب سے اسلام مذہب کی تعلیمات دینے کیلئے مسجد میں تعلیم کے لیے آئے اور انہیں اسلام مذہب کے بارے میں معلومات فراہم کی اور ہندو مذہب اور مسلم مذہب کا موازنہ کیا اور بتایا کہ مسلم مذہب کس طرح برتر ہے، اس طرح ہندو اور مسلم مذہب کے درمیان دراڑ پیدا ہوگئی۔ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے باہمی افہام و تفہیم کے الفاظ کہنے کی پاداش میں گناہ درج کیا گیا ہے۔اس کیس کی جانچ پولیس انسپکٹر پی آر کالے کررہے ہیں ۔اس ضمن میں معمولی ہنگامہ آرائی کے بعد شہر و اطراف کا ماحول پر امن ہے ۔عوام افواہ پر دھیان نہ دیں ۔امن برقرار رکھیں ۔اسطرح کی اپیل بھی کی گئی ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com