این سی پی کو الیکشن کمیشن کا بڑا جھٹکا، کیا گھڑی نشانی ختم ہوجائے گی؟


این سی پی کو الیکشن کمیشن کا بڑا جھٹکا، کیا گھڑی نشانی ختم ہوجائے گی؟ 




نئی دہلی: 23 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) شیوسینا کے دو گروپ میں ٹوٹنے کے بعد الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے سے شیوسینا پارٹی کا نام اور تیر کمان کا نشان چھین لیا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کو بڑا جھٹکا دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن این سی پی کو دیے گئے قومی پارٹی کے درجہ کا جائزہ لے گا۔  اس کے لیے کمیشن نے پارٹی کے نمائندے کو منگل کو الیکشن کمیشن کے دفتر بلایا ہے۔

 ذرائع نے بتایا ہے کہ این سی پی کو اب قومی پارٹی کا درجہ حاصل نہیں رہے گا۔ کسی سیاسی پارٹی کو قومی پارٹی کا درجہ صرف اسی وقت دیا جاتا ہے جب وہ پارٹی لوک سبھا انتخابات میں چار یا اس سے زیادہ ریاستوں میں 6 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کو لوک سبھا کی کل سیٹوں میں سے دو فیصد یعنی تین ریاستوں میں 11 سیٹیں جیتنی ہیں۔

 کیا این سی پی کی نشانی  گھڑی چلے جائے گی؟


 1968 کے سمبال آرڈر کے مطابق اگر کوئی پارٹی قومی شناخت کھو دیتی ہے تو وہ پارٹی ملک بھر کی ریاستوں میں ایک ہی نشان پر الیکشن نہیں لڑ سکتی۔ الیکشن کمیشن این سی پی کے نمائندے کی اپیل سے مطمئن نہیں تھا۔ این سی پی دوسری ریاستوں میں گھڑی کے نشان پر اگلا الیکشن نہیں لڑ سکے گی۔لیکن چونکہ این سی پی کو مہاراشٹر میں علاقائی پارٹی کی حیثیت حاصل ہے، وہ مہاراشٹر میں ہیں۔اس لئے مہاراشٹر میں گھڑی کے نشان پر الیکشن لڑا جا سکتا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے