راہل گاندھی پارلیمنٹ کی رکنیت سے برخاست ، سزا سنائے جانے کے بعد پارلیمنٹ سیکرٹریٹ کی کارروائی، 8 سال تک چناؤ لڑنے پر پابندی


راہل گاندھی پارلیمنٹ کی رکنیت سے برخاست ، سزا سنائے جانے کے بعد پارلیمنٹ سیکرٹریٹ کی کارروائی، 8 سال تک چناؤ لڑنے پر لگا سوالیہ نشان 




راہل گاندھی سے پوری بی جے پی خیمہ میں گھبراہٹ، کانگریس اراکین پارلیمنٹ کی مودی پر سخت تنقید، ورکرس راستے پر نکلے 




نئی دہلی : 24 مارچ (نامہ نگار) موصولہ خبروں کے مطابق آج لوک سبھا سکریٹریٹ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے اس سلسلے میں سات سطری نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ راہول گاندھی، کیرالہ کے وائے ناڈ سے لوک سبھا کے رکن ہیں، کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سورت کی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے ۔اس کے بعد سے راہل کو لوک سبھا کے رکن کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ نااہلی ان کی سزا کی تاریخ یعنی 23 مارچ 2023 سے نافذ العمل ہوگی۔ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 102 (1) (ای) اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 8 کے تحت لیا گیا ہے۔اب انہیں آئندہ لوک سبھا 2024 کے عام چناؤ سمیت 8 سالوں تک چناؤ لڑنے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔اب راہل گاندھی کو اعلیٰ کورٹ سے ہی راحت مل سکتی ہیں 

 یہ نوٹیفکیشن لوک سبھا کے جنرل سکریٹری اُتپل کمار سنگھ کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی، صدارتی سیکریٹریٹ، وزیر اعظم سیکریٹریٹ، راجیہ سبھا سیکریٹریٹ، الیکشن کمیشن، مرکزی حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں، چیف الیکٹورل آفیسر، کیرالہ، رابطہ افسر، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس، پارلیمنٹ ہاؤس انیکس، این ڈی ایم سی سیکریٹری، کو ایک ایک کاپی۔ ٹیلی کام، رابطہ افسر اور لوک سبھا سکریٹریٹ کے تمام افسران اور شاخوں کو بھیج دیا گیا ہے۔

 قانون کیا ہے؟

 عوامی نمائندگی ایکٹ کے مطابق کسی بھی ایم پی یا ایم ایل اے کی رکنیت منسوخ کردی جائے گی اگر اسے کسی بھی حالت میں دو یا اس سے زیادہ سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔  اس کے علاوہ وہ چھ سال کے لیے الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل ہو گئے ہیں۔ ایسے میں اگر راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملتی ہے تو راہل گاندھی 2024 کا لوک سبھا الیکشن نہیں لڑ پائیں گے، جو ان کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔


خیال رہے کہ کولار، کرناٹک میں 2019 کی لوک سبھا انتخابی مہم میں راہل نے بیان دیا تھا کہ 'سب چوروں کی کنیت کیا مودی ہے ؟' اس کے بعد سورت کے بی جے پی ایم ایل اے پرنیش مودی نے راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔  سورت کے چیف مجسٹریٹ ایچ۔  ایچ۔  ورما نے راہول کو 2 سال قید اور 15000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں راہل کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔  اس کا نوٹس لیتے ہوئے لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کی امیدواری منسوخ کر دی ہے۔


 بی جے پی جاری پارلیمنٹ اجلاس میں راہل گاندھی کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے۔ گاندھی کو بیرون ملک ہندوستان اور وزیر اعظم مودی کے بارے میں راہل کے تبصروں پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔  اس پر کانگریس بھی جارحانہ ہوگئی ہے۔ کانگریس ورکروں نے راستے پر نکل کر احتجاج بھی کرنا شروع کردیا ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پرانے ویڈیوز بتائے ہیں۔ان ویڈیو کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش جاری ہے کہ مودی نے بھی ایسے ہی بیانات دیے ہیں۔ دریں اثنا، راہول کا سیاسی بحران 2019 میں ایک متنازع تقریر کے سلسلے میں سزا سنائے جانے کے بعد مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اکیلے راہل گاندھی کی وجہ سے پارلیمنٹ کا کام پچھلے کچھ دنوں سے معطل ہے۔  اب ان کی رکنیت رد کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور پیوش گوئل سمیت کچھ مرکزی وزراء نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے ہال میں عدالتی فیصلے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس لیے لوک سبھا سکریٹریٹ نے فوری طور پر یہ کارروائی کی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر پارٹی کے سینئر لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ قبل ازیں کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے واضح کیا کہ وہ جلد ہی سزا سنائے جانے کے اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے