مفتی اسماعیل نے اضافی بجلی بل کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھائی، ایم ایس ای بی کے نقصان کی انکوائری ہونا چاہئے
مالیگاؤں : 14 مارچ ( پریس ریلیز) ان دنوں بجلی کے اضافی دام کو لے کر جو بے چینی مالیگاؤں پاور لوم بنکروں و گھریلو سمیت پورے مہاراشٹر کی انڈسٹریز میں پائی جارہی ہیں اسکے خلاف گزشتہ دو مہینے سے ریاست کے پاور لوم ٹیکسٹائل انڈسٹری کے شہروں نے اضافی بجلی بل کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، آج مقامی رکن اسمبلی مفتی اسمٰعیل قاسمی نے ایوان میں اپنی بات اسپیکر کے سامنے بڑے ہی اچھے انداز اور مدلل ثبوت کے مد نظر پیش کیے، مفتی اسمٰعیل قاسمی نے MERC کی پچھلے مہینے سماعت کی سنوائی، اور کرونا دور کے وقت جو بجلی بل کے نقصان کا پرائیویٹ بجلی کمپنی بتا رہی ہے وہ بے بنیاد و غلط ہے مزید کہا کہ کرونا صرف مالیگاؤں یا مہاراشٹر میں نہیں تھا بلکہ ملک سمیت پوری دنیا اس سے متاثر تھی یہ پرائیویٹ بجلی کمپنی مالیگاؤں میں سال 2019 میں آئی ہے مگر جو انفراسٹرکچر کے لئے بنیادی سہولیات دینے کا ایگری مینٹ معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق آج تک عمل پیرا نہیں ہے MSEB بورڈ نے جو MERC کو پورے مہاراشٹر میں 67 ہزار چار سو کڑور روپے کا بجلی کا نقصان بتاکر پورے مہاراشٹر میں بجلی استعمال کرنے والوں کنزیومرس کو دو روپے پچپن پیسے 2.55 پر یونٹ اضافہ بل کی ڈیمانڈ کی ہے مفتی اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ ایسا ہیکہ توپ کا لائسنس مانگا جائے تو ریوالور کا لائسنس دے دیا جاتا ہے اگر اضافی بجلی بل کی وجہ کرونا پریڈ کے دوران بجلی کے ذائع ہوئی اس کی وجہ سے اضافی بجلی بل کا بوجھ ڈالا جارہا ہے تو یہ غلط ہے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی ملک میں آندھراپردیش ریاست انڈسٹریل کو ہزار یونٹ بجلی فری میں دے رہا ہے دہلی اور پنجاب حکومت گھریلو صارفین کو تین سو یونٹ بجلی بل فری میں دے رہی ہے ان کو نقصان نہیں ہے، مہاراشٹر سرکار MSEB بورڈ اسطرح اپنا نقصان بتارہی ہیں تو اس کی انکوائری ہونی چاہیئے کہ یہ نقصان کیسے ہیں یہ مطالبہ کیا انھوں نے دوسرا مطالبہ چیف منسٹر سے کیا کہ وہ 37 فی صد اضافہ بجلی بل میں کیا جارہا ہے تو اس کو ختم کیا جائے اسے ہٹایا جاے انکے بات رکھنے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر بجلی دیوینڈر فڑنویس نے مفتی اسمٰعیل قاسمی کے سوال و مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بجلی کے تعلق سے رکھی گئی بات پوری ریاست کے عوام کے جذبات ہیں سرکار بجلی بل میں بہت زیادہ اضافہ نہ ہو اس کے لیے کوشاں ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com