مچھندر شرکے کو مویشیوں کی گاڑیاں روکنے کی اجازت کس نے دی؟
ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازش ، ایڈیشنل ایس پی سے آصف شیخ کی ملاقات ،کارروائی کا مطالبہ
مالیگاؤں : 9 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ) گزشتہ ہفتہ سڑک حادثہ میں زخمی ہوئے مچھندر شرکے اور اس کے ساتھی کی حمایت میں جس طرح مالیگاؤں شہر کے اخبارات، سوشل میڈیا پر نیوز وائرل کی گئی اس سے لگتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مالیگاؤں شہر کا امن امان خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازش بھی ہورہی ہیں اس لئے اس پورے معاملے کی مکمل انکوائری کی جانی چاہئے ۔اسطرح کا ایک مطالباتی مکتوب شہر کے ایڈیشنل ایس پی انیکیت بھارتی کو این سی پی لیڈر آصف شیخ نے دیا ہے ۔موصوف نے آج انکی آفس میں ملاقات کی ۔یہاں میڈیا نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ سڑک حادثہ الگ اور حملہ کرنا الگ ہے مچھندر شرکے کو کس نے اجازت دی کہ وہ سڑک پر چلتی گاڑی کو روکنے کیلئے قانون ہاتھ میں لے؟ اسکی بھی جانچ ہونی چاہئے اور کارروائی ہونی چاہئے، آصف شیخ نے کہا کہ گئو ونس کی ممانعت ہے ہم اسکی حمایت نہیں کرتے لیکن جس جانور کا گوشت کھانے کی اجازت سرکار نے دی ہے قانون کے مطابق مالیگاؤں کے سات لاکھ مسلمان اس بھینس کا گوشت کھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسلہ دو ہزار قریشی کا نہیں بلکہ سات لاکھ عوام کے کھانے کا ہے اس لئے پولس ایسے سماج دشمن عناصر پر نظر رکھے اور مکمل جانچ کر کارروائی کرے ۔آصف شیخ نے کہا کہ جس طرح گئو رکشک میرا نام اچھال رہے ہیں اگر میری تقریر سے حالات بگڑے ہیں تو مجھ پر بھی کارروائی کی جانی چاہئے میں ثابت کروں گا کہ کون سچ ہے اور کون غلط لیکن گئو ونش کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں پر سخت کارروائی پولس کو کرنا چاہیے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com