کارپوریشن چناؤ : ممبئی پونہ سمیت مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات پر سپریم کورٹ میں آئندہ سماعت 40 دن بعد، چناؤ مئی یا اکتوبر میں؟
نئی دہلی : 10 فروری (بیباک نیوز اپڈیٹ)مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کا امکان ہے، اس لئے کہ آج پھر سپریم کورٹ میں فیصلہ نہیں ہوسکا، اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں فروری کے دوسرے ہفتے یعنی سات فروری کو سماعت ہونے والی تھی لیکن کورٹ کے کام کاج زیادہ ہونے سے کیس کا نمبر بروز منگل کو سماعت نہیں ہوسکی اور آج اس کیس کی سماعت ہوئی اس دوران بھی سپریم کورٹ کے جج نے مزید چالیس دن بعد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ممبئی، پونہ سمیت مہاراشٹر کے 23 کارپوریشن اور ضلع پریشد و پنچایت سمیتیوں کے عام انتخابات ہونے ہیں اور اس سلسلے میں ریاست کی سابقہ مہاوکاس اگھاڑی سرکار اور موجودہ شندے فرنویس حکومت کے وارڈ رچنا اور پینل سسٹم پر دائر درخواست پر سماعت ہونا ہے ۔اب تاریخ پر تاریخ ہونے سے سیاسی جماعتوں اور عوام میں تذبذب قائم ہے کہ آیا کارپوریشن چناؤ کب ہونگے ؟سپریم کورٹ نے چالیس دن بعد یعنی 14 مارچ کی تاریخ سماعت کیلئے مقرر کی ہے حالانکہ سپریم کورٹ کی مہاراشٹر ویب سائٹ پر اس کیس کی سماعت کی تاریخ 21 مارچ دکھائی جارہی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے وکلاء نے کہا کہ اب آئندہ سماعت 14 مارچ کو ہوگی اور ممکن ہے اسی دن فیصلہ بھی ہوجائے ۔
اگر اس دن فیصلہ ہوجائے تو الیکشن کب ہونگے؟
سپریم کورٹ 14 مارچ کو اس کیس کا فیصلہ اگر مہاوکاس اگھاڑی کی عرضداشت پر وکلاء کی دلیل پر مثبت فیصلہ سناتی ہے تو انتخابات مئی میں ہونے کے روشن امکانات ہیں اور اگر کورٹ شندے فرنویس حکومت کے وکلاء کی دلیل پر فیصلہ سناتی ہے تو پھر انتخابات اکتوبر میں ہونگے ۔کیونکہ شندے فرنویس حکومت کے فیصلے کے مطابق میونسپل انتظامیہ کو بڑی تیز رفتاری سے وارڈ رچنا کرنا ہوگا، وارڈ وائز ووٹر لسٹ تقسیم کرنا ہوگا، مشورے و اعتراضات طلب کرنے ہونگے اور ان سب قانونی کارروائی کیلئے تاخیر ہوگی جس سے الیکشن بھی تاخیر سے ہوگا ۔وہیں اگر مہاوکاس اگھاڑی سرکار کیلئے عرضداشت پر سپریم کورٹ فیصلہ سناتی ہے تو الیکشن جلد ہونگے کیونکہ ساری کارروائی مکمل ہوچکی ہیں ۔اب اگر 14 مارچ کو بھی سماعت نہیں ہوسکتی ہے تو پھر بلدیاتی انتخابات بارش بعد یعنی اکتوبر میں ہونگے کیونکہ ضلع پریشد انتخابات کے لئے دیہاتوں میں بارش کو ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور بارش میں انتخابات کے امکان بہت کم یا نہیں ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com