ٹی ایم ہائی اسکول میں اشکبار الوادعی اور سرشار انعامی تقریب کے قوس قزحی کی ضیا پاشیاں
ٹی ایم ہائی اسکول میں صبح10بجے دہم اور دوازدہم کے طلبہ کی الوادعی تقریب کے نظارے اشکبار رہے وہیں کھیلوں کے مقابلے و حنا کاری میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے طلبہ کی تقریب انعامی سرشاری سے محفل قوس قزحی کے رنگ بکھیر کر اپنی ضیا پاشیوں سے منور کر رہی تھیں۔قرات، حمد، استقبالیہ گیت، طلبہ کے الوادعی جذبات، اساتذہ کی رہنمائی اور الوادعی گیت کا یہ حاصل رہا کہ طلبہ الوادع نہیں ہورہے ہیں بلکہ محنت شاقہ سے انھیں امتحان کو الوادع کہنا ہے یعنی پہلے پہل ہی زیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنا ہے نیز جس میدان میں قدم بوسی کریں وہاں اپنے اخلاق و اطوار سے اپنی شناخت کو قائم رکھنا ہے۔ اسکول ھذا کے سپر وائزر رحمانی جمیل سر نے اسکول کی رپورٹ اور طلبہ کی سالانہ کارکردگی پر طائرانہ رپورٹ پیش کیں۔
تعلیمی مرکز سوسائٹی کے سیکریٹری محترمہ شان ہند، مستقیم ڈگنیٹی، شمیم آپا، شاہد فائن، شکیل حنیف، پروفیسر رضوان خان، سہیل عبدالکریم، ساجد پرنس، کا ان کے شایان شان استقبال اسکول کی طالبات نے کیا۔ 50 طلباء و طالبات پر مشتمل ٹروپ نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ پرنسپل انصاری پرویز سر نے اپنے منفرد انداز میں انکا تعارف پیش کیا۔ پروفیسر رضوان خان سر اور شکیل حنیف نے طمانیت کلی کا اظہار کرنے کے ساتھ طلبہ کے ڈسپلن اور ٹیم ورک کو تحسینی کلمات سے نوازا۔
خطبہ صدارت میں محترمہ شان ہند صاحبہ نے اول الزکر کے کلمات کی حمایت کی۔ انھوں نے اپنے تخاطب میں کہا کہ نہال صاحب والد محترم کی دور اندیشی اور انکے خوابوں کی تعبیر ٹی ایم ہائی اسکول ترقی وارتقاء کے منازل طے کررہا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو طلبہ نہم و دہم جماعت میں%85 نمبرات حاصل کرتے ہیں اسکے اخراجات کا ذمہ ہم لیتے ہیں۔ وہ سرپرست جو اپنے بچوں کو یہاں داخلے نہیں دلا پاتے اس کمی کو پورا کرنے کے بعد برادر مرحوم بلند اقبال کے نام کی زمین اسکول کے لیے وقف کرنے کا اعلان کرتی ہوں تاکہ اس محلے کا ہر بچہ زیور تعلیم سے مستفیض ہوں۔ اس بیان پر طلبہ کے ساتھ ساتھ مہمانان اور اسٹاف نے بھی فلک شگاف تالیاں بجا کر سیکریٹری صاحبہ کے اعلان پرتپاک استقبال کیا۔ اس پروگرام کی نظامت اشعار در اشعار کے ذریعے ضیاء انجم سر نے احسن طریقے سے انجام دی۔ اظہار تشکر کے بعد ظہرانے کے ساتھ طلبہ و مہمانان کو رخصت کیا گیا۔ ش۔ ن۔ الف ۔ٹی ایم ہائی اسکول اینڈ جونیر کالج
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com