الوداع شاہ مکرم الوداع ۔۔۔۔۔۔
(حیدراباد دکن کےنظام ہشتم آصف جاہ ثامن مکرم جاہ بہادر کے انتقال پر تعزیتی نظم )
از قم : مشتاق الا سلام ظاہر(بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی اور شاعر) رابطہ : 9928986086
الوداع شاہِ مکرم الوداع
تھے مکرم جا بہادر سرخرو
آپ کی تھی ہم کو جب تک جستجو
تخت شاہی رو رہا ہے آج تو
سارا عالم یاد کرتا آپ کو
الوداع شاہِ مکرم الوداع
ساری یادیں ہیں خیالوں میں جواں
اب چمن کا کون ہے یاں پاسباں
مثلِ گل سی تھیں بہاریں آپ کی
اب تو ہیں وہ ساری باتیں خواب کی
الوداع شاہِ مکرم الوداع
ان کے بن اجڑا ہوا سا ہے دکن
آگ سینے میں ہے بے گور و کفن
والا جا کی جب خبر ہم نے سنی
سب کے دل پر چل رہی ہے اک چھری
الوداع شاہِ مکرم الوداع
ان کے دم سے جو بھی کچھ ہوتا رہا
داستاں سارا زمانہ کہہ رہا
مرد و زن سب سے رہا ہے رابطہ
ذہن و دل میں ہی رہیں گے نقش پا
الوداع شاہِ مکرم الوداع
جن کی ہستی کا ہے چرچا چار سو
وہ تو ہوتے تھے سبھی سے رو بہ رو
جن کے دم سے جاوداں تھی ہر بہار
اب بہاروں کا کریں کیا انتظار
الوداع شاہِ مکرم الوداع
وہ امیرِ کارواں جاتا رہا
وہ نظامِ ہند اب جاتا رہا
ان کی ہستی پر نچھاور ہے دکن
ساگرِ عثماں پہ روتا ہے گگن
الوداع شاہِ مکرم الوداع
ٹھنڈی آہیں بھر رہی ہے یہ زمیں
رو رہا ہے چیخ کر یہ آسماں
یہ رعایا کس قدر ہے غم زدہ
آصفی پر چم بھی تو اب رو پڑا
الوداع شاہِ مکرم الوداع
لو اٹھا ہے اب جنازہ شاہ کا
آنسووں سے تر ہواہے مرثیہ
اب کہاں وہ آصفی ہے سلسلہ
رنج و غم میں ہے یہ عالم مبتلا
الوداع شاہِ مکرم الوداع
گر رہی ہیں میرے دل پر بجلیاں
اب کہاں ہے وہ دکن وہ گلستاں
ہے دکن کے ذرے ذرے کی صدا
تیری عظمت پر یہ جان و تن فدا
الوداع شاہِ مکرم الوداع
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com