تبدیلی مذہب کا معاملہ بہت سنگین ہے اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے : سپریم کورٹ
نئی دہلی : 10جنوری(بیباک نیوز اپڈیٹ) سپریم کورٹ نے ملک میں جاری مذہب کی تبدیلی کے معاملے پر سنجیدہ الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مذہب کی تبدیلی بہت سنگین شکل ہے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ اس درخواست پر فیصلہ کرنے کے لیے اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی کو سپریم کورٹ کی مدد کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
جبری تبدیلی مذہب کے خلاف ٹھوس کارروائی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے تبدیلی مذہب پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہا کہ اس قسم کی تقریب کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔۔
چند ماہ قبل شردھا واکر کو مہاراشٹر میں اس کے بوائے فرینڈ آفتاب پونا والا نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مہرولی جنگل میں پھینک دیا گیا۔ اس سے مہاراشٹر میں سیاسی حکمراں جماعت بی جے پی کے ایم ایل اے رام کدم نے کہا کہ یہ کیس لو جہاد کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ کہہ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے اس معاملے کی مکمل جانچ کر کے شردھا واکر کو انصاف دلانے کا بھی مطالبہ کیا۔
چند روز قبل ممبئی کی اداکارہ تیونشا شرما نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ اس پر اس کے بوائے فرینڈ شیجان خان کو گرفتار کر لیا گیا اور سیاسی جماعتیں اس کیس کو بھی لو جہاد سے متعلق ہونے کی بات کر رہی تھیں۔ سپریم کورٹ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایسی چیزوں پر سیاست نہ کی جائے۔ مذہب کی تبدیلی کا معاملہ بہت سنگین ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔اسطرح کا تبصرہ معزز سپریم کورٹ نے دیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com