بہار حکومت کی طرز پر مہاراشٹر میں بھی مسلمانوں کی ذات کے لحاظ سے مردم شماری کی جائے
مسلم ریزرویشن فیڈریشن کے صدر آصف شیخ رشید کی وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے و فرنویس سے ملاقات و مطالبہ
ممبئی : 10 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست بہار حکومت نے حال ہی میں ذات کے لحاظ سے مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرز پر مہاراشٹر حکومت بھی ذات پر مبنی مردم شماری کرائے ۔اسطرح کے مطالبہ کے ساتھ مسلم ریزرویشن فیڈریشن کے صدر و سابق ایم ایل اے ، آصف شیخ رشید(مالیگاؤں ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر) نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے و نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو ایک مکتوب دیتے ہوئے کیا ہے ۔آصف شیخ نے مکتوب میں لکھا ہے کہ ریاست مہاراشٹر میں مردم شماری کے دوران خاص کر مسلمانوں کی ذات پات اور ذیلی ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے۔
آصف شیخ نے تحریری مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مہاراشٹر میں اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمتوں، کارپوریٹ سیکٹر وغیرہ میں مسلم نوجوانوں کا فیصد اور حصہ داری بہت کم ہے۔آزادی کے 75 سال بعد بھی مسلم نوجوان تعلیم، روزگار اور دیگر شعبوں میں مرکزی دھارے میں نمایاں شراکت دار نہیں ہیں۔ اس کے لیے مسلمانوں کی ذات پات کے لحاظ سے مردم شماری کرانا بہت ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو دئے گئے مکتوب میں آصف شیخ نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے یہ پتہ لگایا جائے کہ موجودہ حالات میں مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہیں؟اسکی تعداد ظاہر کی جائے ،اس کے علاوہ ذات برادری کے لحاظ سے مسلمانوں کی مردم شماری کی جائے ۔سرکاری ملازمتوں میں کتنے فیصد مسلمانوں کا شمار ہے؟ تعلیم کے شعبوں میں مسلم قوم کا کیا حال ہے؟ روزگار اور معیشت کے لحاظ سے مسلمانوں کی حالت کیسی ہیں اور کتنے فیصد مسلم بیروزگار ہیں؟، مہاراشٹر میں کتنے فیصد مسلمان غریب ہیں اور کتنے فیصد مسلمان امیروں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں؟اسی طرح کتنے فیصد مسلمان تعلیم سے دور ہیں؟ ان تمام مدعوں پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت ریاست میں آباد مسلم طبقہ کی مردم شماری کرے ۔
آصف شیخ نے شندے فرنویس حکومت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بہار کی طرز پر مہاراشٹر ریاست میں بھی مسلمانوں کی ذات کے لحاظ سے مردم شماری کا فیصلہ کریں اور اسے فوری طور پر نافذ کریں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com