'نجوم میں ہجوم' سائنسی نمائش قابل تعریف لیکن سہولیات کا فقدان ضروری انتظامات کی بجائے غیر ضروری انتظامات


'نجوم میں ہجوم' سائنسی نمائش قابل تعریف لیکن سہولیات کا فقدان 



ضروری انتظامات کی بجائے غیر ضروری انتظامات پر طلباء ، اساتذہ اور والدین کی تنقید و نجوم انتظامیہ سے گزارش 


مالیگاؤں : 26 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کے نامور کیمپس میں جمعہ سے تین روزہ سائنسی نمائش 'نجوم' کے عنوان سے منعقد کی گئی جو کہ قابل تعریف ہیں ۔طلباء میں سائنسی نقطہ نظر کو پروان چڑھانے کیلئے مالیگاؤں شہر میں جہاں سرکاری سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں وہیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی سائنس نمائش کَ انعقاد کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں پرائیوٹ انتظامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والے پروگرام میں خاطر خواہ انتظامات کا فقدان صاف طور پر نظر آتا ہے ۔
اس سلسلے میں موصول تفصیلات کے مطابق 'نجوم میں ہجوم' یقیناً پروگرام کی کامیابی کی دلیل ہیں لیکن یہاں اٹھنے والے سوالات کا جواب کون دیگا؟ نمائندہ کو جو تفصیلات حاصل ہوئی ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نجوم نامی نمائش میں انتظامات درست نہ ہونے سے شہر کی مختلف اسکولوں سے آئے ہوئے طلباء، اساتذۂ کرام اور نمائش میں حصہ لینے والےطلبہ و طالبات کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔سب سے حیرت والی بات تو یہ رہی کہ یہاں کے منتظمین نے اپنے اساتذہ کی خدمات لینے سے زیادہ بہتر انجینئرنگ کالج کے زیر تعلیم طلباء کی خدمات کا استعمال کیا جو کہیں نہ کہیں بدنظمی کا باعث بنا۔اس تعلیمی نمائش میں مختلف سطح پر طلباء نے   حصہ لیتے ہوئے پروجیکٹ پیش کیا جسکا ابزرویشن بھی جونیئر اساتذہ نے کیا جن کی عمر اور تجربہ پروگرام کی نوعیت سے ناکافی رہا ہے ۔
اسی طرح قرآت و تقریری مقابلے میں بھی طلباء کو بہت زیادہ ل پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، بعض مقامات پر ججس میں یا ہیلپر کے طور پر طلباء نظر آئے جو صرف اسٹاپ واچ (تقریر کا وقت) چیک کررہے تھے ۔اتنا ہی نہیں نمائش کے مقامات کا فاصلہ دور دور ہونے سے طلباء کو حیرانی برداشت کرنا پڑی، ذمہ داران کی طرف سے طلباء کی رہنمائی کیلئے کوئی کوشش نہیں کی گئی یا جنہیں ان خدمات پر مامور کیا گیا تھا وہ لاپرواہی کر گئے ۔پانی، واش روم کیلئے بھی طلباء کو تکالیف برداشت کرنا پڑی  ۔اسی طرح سب سے اہم سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ جب یہ نجوم نامی نمائش خالص سائنسی و تعلیمی تھی تو پھر یہاں میلہ کیوں لگایا گیا؟ جھولے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ اس موقع پر لڑکے اور لڑکیوں کے ایک مقام پر جمع ہونے سے کیا کیا خرافات نہیں ہوتی؟ یہ سبھی کو پتہ ہے ۔اسطرح کی شکایات کئی اسکولوں کے اساتذہ نے خود نمائندہ سے کی اور نجوم نمائش کے ذمہ داران سے بھی کی ہے ۔حتی کہ طلباء اور والدین نے بھی شکایت کا انبار لگایا ہے ۔عوام کی جانب سے یہ تنقیدیں بھی کی جارہی ہیں کہ نجوم صرف ایک اشتہار ہے ۔پبلسٹی کا ایک نیا طریقہ بے جو شہر کے طلباء اور عوام کو ایک جگہ جمع کرکے اپنی دکان کی نمائش کرنے کا خواب پورا کررہا ہے تاکہ وہ چل پڑے ۔امید ہے کہ نجوم نمائش کی انتظامیہ اس جانب مثبت توجہ دیکر آئندہ ایسی کوتاہی نہ کریں اور اپنی انتظامی کوشش کو بروئے کار لائے ۔ویسے آخر میں ایک بار پھر طلباء کی خاطر اس طرح کی تخلیقات پر مشتمل سائنسی نمائش نجوم کے انعقاد پر مستقل کیلئے نیک خواہشات و مبارک باد پیش کی جاتی ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے