ایک لاکھ روپے رشوت طلب کرنے کے الزام میں ڈپٹی کلکٹر، کلرک اور وکیل رنگے ہاتھوں گرفتار
بلدانہ:28 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) پراجیکٹ میں جانے والی آبائی زمین کا سرکاری معاوضہ ادا کرنے کے لیے 2 لاکھ 17 ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کرنے کے الزام میں ڈپٹی کلکٹر (لینڈ ایکوزیشن میڈیم پراجیکٹ)، ایک وکیل اور کلکٹر آفس کے ایک سینئر کلرک کو بلڈھانہ کے انسداد رشوت ستانی محکمہ نے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ کلکٹر کے دفتر میں کی گئی اس کارروائی سے سنسنی پھیل گئی ہے۔بلڈھانہ اے سی بی نے بدھ 28 کو یہ کارروائی کی۔
سب کلکٹر بھیکاجی سیشاراؤ گھُگے (عمر 56)، کلرک ناگوراؤ مہادیو راؤ کھرات (عمر-47 ساکن ستیم اپارٹمنٹ، سندرکھیڈ ضلع بلڈھانہ)، ایڈوکیٹ اننت شیواجی راؤ دیشمکھ (عمر- 32 سال، موٹالا ضلع. بلڈھانہ) کے نام شامل ہیں۔ جو رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے۔ ناندورا تعلقہ کے ہنگانہ اچھاپور کے ایک 18 سالہ نوجوان نے بلڈھانہ کے محکمہ بدعنوانی کے دفتر میں ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ کی آبائی زمین جیگاؤں پروجیکٹ میں چلی گئی ہے۔ کلرک ناگوراؤ کھرات نے شکایت کنندہ سے کہا کہ وہ اس زمین کا سرکاری معاوضہ حاصل کرنے کے لیے ڈپٹی کلکٹر کو 2 لاکھ 17 ہزار روپے ادا کرے۔ اس دوران بھیکاجی گھُگے نے سمجھوتہ کے بعد ایک لاکھ روپے رشوت طلب کی۔ شکایت کنندہ نے اس کی شکایت بلڈھانہ اے سی بی سے کی۔
بلڈھانہ اے سی بی کی ٹیم نے پیر 26 دسمبر کو تصدیق کی، اس وقت بھیکاجی گھُگے نے دو لاکھ 17 ہزار روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا اور سمجھوتہ کے بعد ایک لاکھ روپے قبول کرنے پر رضامند ہو گئے۔ ٹیم نے بدھ کو کلکٹر کے دفتر میں جال بچھایا ۔ ڈپٹی کلکٹر بھیکاجی گھُگے نے وکیل اننت دیشمکھ کو ایک لاکھ روپے رشوت دینے کو کہا۔ گھُگے کے کہنے پر دیشمکھ کو شکایت کنندہ سے ایک لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔اس کے بعد بھیکاجی گھُگے اور کلرک ناگوراؤ کھرات کو حراست میں لے لیا گیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com