رقت آمیز دعاؤں کیساتھ دوروزہ تبلیغی اجتماع کا اختتام، لاکھوں فرزندان توحید کی شرکت
صبر کر و، در گذر کرو، یقین کیساتھ زندگی گزارو، ہر مسئلہ آسانی سے حل ہوگا
دو روزہ اجتماع کامیابی سے ہمکنار ، 57 نکاح، 60 سے زائد جماعتیں اللہ کے راستے میں روانہ
مالیگاؤں (نامہ نگار) درے گاؤں شیوار اسپننگ مل کے پیچھے دو روزہ ضلع ناسک کا عمومی اجتماع گذشتہ کل اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجتماع 5 لاکھ اسکوائر فٹ کی جگہ پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجتماع میں ناسک ضلع و بیرون اضلاع سے بھی لوگوں نے شرکت کی۔مالیگاؤں شہر میں دوسرے دن تقریباً تمام ہی کاروبار بند رکھے گئے۔ لاکھوں کی تعداد میں شہریان نے اس اجتماع میں شرکت کی۔ صبح سویرے سے ہی زیادہ تر افراد پیدل آگرہ روڈ سے اجتماع گاہ جاتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے علاوہ شہر کے درجنوں رکشہ ڈرائیورس نے اپنی رکشا کے ذریعے شہریان کو بلا معاوضہ لانے لیجانے کا کام کیا۔وہیں کچھ ٹرک مالکان نے بھی اپنی ٹرک کے ذریعے لوگوں کو اجتماع گاہ تک پہنچایا۔ جمعہ کی نماز کیلئے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مولانا سعد کے فرزندان کو دیکھنے کیلئے بھی سینکڑوں لوگ اجتماع گاہ پہنچے۔ اس جتما ع میں خواص کا جوڑ بھی رکھا گیا، 15 سو علمائے کرام اور تاجر حضرات کیلئے اہم و مفید باتیں اور مشورے پیش کئے گئے۔ کونگے بہرے لوگوں میں مولانا الیاس نے بات کی۔کل اجتماع سے 150 جماعتیں چار مہینہ اور چالیس دن کیلئے نکالی گئی۔ اجتماع کے ذمہ داران حاجی لئیق، حاجی حبیب، ڈاکٹر کاشف، حاجی فرید فارانی، عتیق غربید، فضل القدریر، حبیب پانی والا و دیگر احباب نے بخوبی اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اس اجتماع سے مولانا سعد کے دونوں فرزندان نے بھی خطاب فرمایا۔ کل اجتماع کے دوسرے دن مولانا سعد کے فرزند مولانا یوسف اور مفتی الیاس نے شرکت فرمائی۔ نماز فجر کے بعد مولانا محمود اکولہ والا نے بیان کیا۔ نماز جمعہ کیلئے اذان 1 بجے دی گئی اور جماعت کا وقت 2 بجے کا رکھا گیا۔ نماز جمعہ کا خطہ اور امام کا فریضہ مولانا محمد یوسف ابن مولانا سعد احمد نے ادا کیا، اور نماز جمعہ کے بعد مولانا سعد کے چھوٹے فرزند مفتی الیاس نے خطاب فرمایا۔ اس اجتماع سے علماء کرام نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دُنیا میں مشغول ہوگئے ہیں۔ ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہر کام ہماری وجہ سے ہورہا ہے۔ ہماری دکان، ہماری نوکری، ہمارا کاروبار ہمیں سب کچھ دے رہا ہے۔ جبکہ یہ غلط ہے۔ اگر قدرت چھیننے پر آجائے تو سب کچھ پل بھر میں ختم ہوجائے گا۔ کچھ قومیں اپنی طاقت پر خوب گھمنڈ کرتی تھی۔ ان کے پاس اللہ والے جاتے تھے تو انہیں کہا جاتا تھا کہ ہم ہماری ٹیکنالوجی، مشنری کے بل بوتے پر بہتر زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمیں تمہاری دین داری کی باتوں سے کیا لینا دینا ہے۔ کچھ قومیں تو اور بھی زیادہ طاقتور تھیں۔ پہاڑوں کو ناخونوں سے تراش دیتی تھیں۔ ان کا قدوقامت بہت لمبا چوڑا تھا۔ سینے فولادی تھے۔ ان کی عمر ہزار سال کے آس پاس تھی۔ ایسی قوموں نے بھی اللہ کی نافرمانی کی۔ اللہ والوں کو ستانے کا کام کیا۔ مگر جب اللہ نے ہوا کو تھوڑا تیز چلنے کا حکم دیا تو سب کے سب برباد ہوگئے۔ ان مضبوط فولادی افراد کے اعضاء الگ الگ ہوگئے۔ خود اترانے والوں کو پل بھر میں اوقات سمجھ میں آگئی۔ اس لئے غرور و گھمنڈ سے بچنا چاہئے۔ کائنات کو چلانے والی ذات اللہ کی ہے۔ اس سے مانگو، اللہ کی ذات پر یقین رکھو، کبھی رسوا نہ ہوں گے۔ پریشانی، ذلت سے بچنے کا راستہ دین میں ہے۔ آج کے حالات میں زندگی گذارنے کا فلسفہ بتلاتے ہوئے موصوف نے کہا کہ جتنا درگزر کرو گے، جتنا صبر کرو گے، اتنا فائدہ ہوگا۔ کوئی کتنا بھی ستائے۔ درگزر کرتے ہوئے صبر و ضبط کا مظاہرہ کرو۔ اِن شاء اللہ کامیابی ملے گی۔ ہمیں اللہ کے راستے میں نکلنا چاہئے۔ اہل خانہ کے متعلق اپنی ذادی کو بتلاتے ہوئے کہا کہ ہم نے اہل خانہ کو بالکل دین کے معاملے میں چھوڑ دیا ہے۔ گھر میں نماز ہورہی ہے یا نہیں؟ اس جانب توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ گھر کے بڑوں نے برائیوں پر ٹوکنا بند کردیا ہے اور نیکی کی دعوت دینا بھی بند کردی گئی ہے برا کو برا نہیں مانا جارہا ہے۔ اسلئے گھروں میں قرآن مجید کی تلاوت بند ہوگئی ہے۔ تبیت نہیں ہورہی ہے۔ ہمیں اپنی اپنی فیملی کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ گھروں میں دین کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ بیوی بچوں کو نماز او ردیگر مذہبی ارکان کے تعلق سے سمجھانا ہوگا۔ ورنہ ہم بھی آخرت میں جوابدہ ہوں گے۔کل دوسری دن بعد نماز عصر کے بعد مولانا شوکت کے نکاح کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ اسی وقت تقریباً47 جوڑوں کا نکاح بھی پڑھایا گیا، اور مغرب میں مولانا الیاس نے تسلسل کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا شاندار خطاب بھی فرمایا۔ آخر میں مولانا الیاس نے ہی دُعا فرمائی اور اجتماع کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com